ریکارڈ زرعی پیداوار، یوریا زیادہ استعمال ہوا، کمی اسی مہینے پوری ہوگی؛ وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار

47

اسلام آباد،28دسمبر  (اے پی پی): وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے  وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کے ہمراہ  پریس کانفرنس  سے خطاب  میں کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد یوریا موجود ہے، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر یوریا کی تقسیم کا مربوط نظام بنایا ہے، جو ٹرک یوریا لے کر جائے گا اس کا نمبر ، مقدار اور جس ضلع میں جا رہا ہے، اس سطح پر بھی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اس حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نہروں کی صفائی کا وقت آ گیا ہے، اس کے بعد پریشر بھی کم ہو جائے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ کاشتکاروں کی سہولت کے لئے تمام زرعی مداخل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی، محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، اٹک ، جہلم، چکوال اور راولپنڈی میں گزشتہ سال 7 ہزار میٹرک ٹن یوریا کی ضرورت تھی، اس مرتبہ 10 ہزار میٹرک ٹن کا بندوبست کیا گیا ہے۔

 وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی سطح پر یوریا کی قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی آئی ہے جبکہ پاکستان میں یوریا کی پیداوار  میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت قیمتوں کو کاشتکاروں کی پہنچ تک رکھنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے سندھ کو ضرورت سے زیادہ یوریا فراہم کی گئی، صوبہ سندھ میں گندم کی کاشت مکمل ہو چکی ہے اور وہاں یوریا  ضرورت سے زائد موجود ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام صوبوں میں یوریا ضرورت سے زائد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔