اسلام آباد،29دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2018ء سے لے کر 20 فروری 2021ء تک کی مدت میں گاڑیوں کی نیلامی سے حکومت کو 36 کروڑ 12 لاکھ 59 ہزار 9 روپے حاصل ہوئے جو سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران علی گوہر خان کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی تمام وزارتیں و ڈویژنز سرکاری گاڑیاں استعمال کرتی ہیں اور سٹاف کارز کے قواعد کے مطابق ان گاڑیوں کی آزادانہ نیلامی ہو سکتی ہے۔ نیلام کردہ گاڑیوں سے حاصل کردہ رقم کی نہ تو کابینہ ڈویژن کو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں 169 موٹر وہیکلز کی نیلامی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 17 ستمبر 2018ء کو گاڑیوں کی نیلامی سے 13 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزار روپے، 29 دسمبر 2018ء کو 51 گاڑیوں کی نیلامی سے 5 کروڑ 4 لاکھ 6 ہزار روپے، 16 نومر 2019ء کو 53 گاڑیوں کی نیلامی سے تین کروڑ 44 لاکھ 16ہزار 500 روپے اور 20 فروری 2021ء کو 36 گاڑیوں کی نیلامی سے 19 کروڑ 3 لاکھ 71 ہزار 500 روپے حاصل ہوئے جو قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔
راجہ پرویز اشرف اور مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کی طرف سے نکتہ ہائے اعتراض پر جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اور اقتصادی خودمختاری کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان آج جن اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے حسابات جاریہ ، تجارتی خسارہ اور ریونیو کے بیشتر حصے کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں جیسے معاملات پر سنجیدہ بات کرنے کی ضرورت ہے، ہم سب نے مل کر اسے ٹھیک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلی معیشت کے اعشاریے گزشتہ تین برسوں میں نہیں بگڑے ہیں یہ ایک طویل داستان ہے جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ معاشی خودمختاری کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم ملک کی معاشی خودمختاری کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فاضل ممبر نے پاکستان کے جوہری اثاثوں کے حوالے سے بات کی ہے، کم سے کم دفاعی صلاحیت پر قومی اتفاق رائے تھا، ہے اور رہے گا۔ ہم کسی غفلت اور کوتاہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کی پوری قوم اس حوالے سے متفق ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورم کی بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے لیکن اپوزیشن کے ارکان سے دست بدست درخواست ہے کہ وہ ایوان کو فعال رکھنے کے لئے گھڑی گھڑی کورم کی نشاندہی نہ کریں تاکہ ہم ان کے خیالات سے بھی مستفید ہوں۔
قبل ازیں پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایوان کے اندر اور باہر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ حکومت منی بل یا منی بجٹ لا رہی ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور گیس کی قلت نے لوگوں کے دکھوں میں پہلے سے اضافہ کیا ہے، ہمیں اس کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ جب یہ بل ایوان میں آجائے گا تو اس پر بحث ہوگی۔
مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم منی بل اور سٹیٹ بنک بل کی مخالفت کریں گے۔ 342 اراکین 22 کروڑ عوام کے منتخب نمائندے ہیں، اس ایوان کو ڈھال بننا چاہیے، خواجہ آصف نے کہا کہ مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے قومی مفاہمت کو فروغ دینا چاہیے۔ چار دن سے ایوان میں کورم پورا نہیں ہو رہا۔ میری حکومتی ارکان سے بھی استدعا ہے کہ وہ ملکی معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔











