وفاقی پولیس کے وہ جوان جو شہریوں کے تحفظ اور امن وامان کیلئےزندگیاں ڈائو پر لگا دیتے ہیں ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں؛ آئی جی اسلام آباد احسن یونس

17

 

اسلام آباد،29دسمبر  (اے پی پی):آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے کہا ہے کہ وفاقی پولیس کے وہ جوان جو شہریوں کے تحفظ اور امن وامان کیلئےزندگیاں ڈائو پر لگا دیتے ہیں ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،ان غازیوں کے لیے نظام بنا دیا ہے جو میرے جانے کے بعد بھی جاری رہے گا۔خصوصی کمیٹی غازیوں کو مختلف ربنز کے حوالے سے سفارشات دے گی۔شہریوں کی سہولت کیلئے شکایات اور ایف آئی آر کے اندراج کا نظام ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے،امید ہے جنوری کے پہلے ہفتے میں تمام شکایات آن لائن لی جائیں گی۔شہریوں کو میگا سینٹرز کے ذریعے کم از کم 20 سہولیات فراہم کریں گے۔

ان خیالات  کا اظہار انہوں نے بدھ کو پولیس ہیڈ کوارٹر میں پولیس کے دوران ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کو تمغے لگانے کی تقریب اوراس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کے جذبے کو سراہنا بھی ضروری ہے،اسلام آباد کے شہریوں کو بتانا ہے کہ یہ پولیس آپ کے لیے جان کی قربانی بھی دے سکتی  ہے ،پولیس کے ساتھ اکثر شکوے جائز بھی ہوتے ہیں۔

آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے کہا کہ ماڈرن ڈے پولسنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ میڈیا کے بغیر بھی مکمل نہیں۔میڈیا کے سامنے ہر غلط کام کے لیے جوابدہ ہیں۔فورس اچھا کام کرے تو سراہا جانا چاہیے۔اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پولیس آپ کی ہے۔اس کی اچھائیاں برائیاں بھی کسی دوسرے سیگمنٹ کی طرح ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس محکمے کی نوکری ہم نے اپنی مرضی سے خود کی ہے۔جہاں ممکن ہوسکے اپنی فورس کا خیال رکھنا میری اولین ذمہ داری ہے۔کسی بھی ویلفئیر کا کسی جگہ نہ ہونا شہریوں کی خدمت میں رکاوٹ نہیں ہے۔پولیس بطور ایک فورس اور خدمتگار کے طور پر اپنے آپ کو شہریوں کے سامنے پیش کریں۔

 احسن یونس  نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام تھانوں کے لیے بجٹ دیا گیا بجٹ کو سرکار کی جانب سے دئیے گئے رولز کے مطابق استعمال کریں گے۔تفتیش کی لاگت افسر کو ملتے ہی شکایت کنندہ کو بھی میسج بھیجنے کی خواہش ہے۔پولیس سٹیشن میں عام شہری کا تجربہ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسلام آباد پولیس چوبیس گھنٹے سڑکوں پر موجود ہو،کوشش ہے کہ اسلام آباد میں کوئیک رسپانس پولیس ہو۔

 آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ میں نے 20 دن میں جو سمجھااس حساب سے کام کرنا شروع کیا۔شہریوں کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ پولیس ان کی حفاظت کیلئے ہے۔انہوں نےکہاہم نے 15 پر اپنا رسپانس بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔اہم مقامات پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی کو بھی بہتر بنایا ہے۔جہاں امپروومنٹ کی ضرورت ہوگی اس کو امپرو کیا جائے گا۔کیپیٹل ہونے کی وجہ سے یہاں پولیس سب سے بہتر ہونی چاہیے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امید ہے جنوری کے پہلے ہفتے میں تمام شکایات آن لائن لی جائیں گی۔ اگر آپ کی پولیس کے خلاف شکایت ہوئی تو میرے آفس میں موجود انٹرنل اکاؤنٹنٹ بیلیٹی برانچ دیکھے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں پولیس کا شہریوں سے رابطہ بہتر نہ ہو وہاں پولیس کی بعض کالی بھیڑیں جرائم پیشہ افراد سے تعلقات مضبوط بنا لیتی ہیں۔میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔جرائم پیشہ افراد اور گینگ سے روابط رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی کڑی نگرانی کا عمل شروع کیا جا رہا ھے۔ایسے ملازمین کی پولیس کو ضرورت نہیں ۔انہیں محکمہ سے نکال دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو میگا سینٹرز کے ذریعے کم از کم 20 سہولیات فراہم کریں گے۔ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں سہولت کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں،میری خواہش ہے کہ ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے ہی لائنسنس بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو 15 پر کام کر رہے ہیں جس سے لائیو لوکیشن بھی پولیس تک آجائے گی۔

آئی جی نے کہا کہ جہاں ہمارے پاس 604 اہلکار کام کرنے تھے ان کی کی جگہ 800 مزید کانسٹیبلز لائے گئے تاکہ پولیس ریسپانس ٹھیک ہو سکے۔شہر میں ٹریفک کے نظام کے بہت مسائل ہیں،اس پولیس کو ڈائنامک پولیس بنانے کی طرف گامزن ہیں۔سری نگر ہائی وے کو سگنل فری کرنے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔شہر میں سکول اوقات میں ہیوی ٹریفک نہیں آسکے گی 10 بجے کے بعد اجازت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 60 سے زائد مین کرائم پاکٹس کی نشان دہی کی ہے۔سیف سٹی کو کرائم ایریاز پر فوکس کرنے کیلئے کہا ہے۔پولیس کو ہمیشہ سنیپ چیکنگ ہی فائدہ دے سکتی ہے۔کوشش ہے کہ سنیپ چیکنگ انڈر سی سی ٹی وی ہو تاکہ شہریوں کی شکایات بھی دور کی جاسکیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی ظہور کیس پر بہت لوگوں نے کوشش کی ایف آئی اے نے جو ایف آئی آر دی وہ پبلک ہے،وہ تمام قانونی آپشنز جو عام شہریوں کے لیے ہیں وہ اے ایس آئی ظہور کے لیے بھی ہونگے۔ کسی بھی پولیس افسر کو قانون کی عملداری کو یقینی بنانا چاہئے جیسا عام شہری پر ہو،ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی تفتیش میرٹ پر ہو گی۔