اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ مخدوم زین قریشی نے کہا ہے کہ ینگ پارلیمنٹیرین خطے میں پائیدار اقدامات کررہے ہیں، ملک میں تفرقے ختم کرنے کے لئے وائی پی ایف اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ینگ پارلیمنٹیرین فورم اور پیس بلڈنگ کے حوالے سے پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے ایم این اے نوید عامر جیوا، پی ٹی آئی کے ایم این اے لال چند ملہی اور دیگر مقررین بھی موجود تھے۔ زین قریشی نے وائی پی ایف فورم کو متعارف کراتے ہوئے وضاحت کی کہ فورم نے پارٹی سے بالا تر ہو کر نوجوان قانون سازوں کو یکجا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان قانون سازوں کے لئے ایک موثر پلیٹ فارم ہے جہاں وہ خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاعلاقائی اور بین الاجماعتی نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں اور سگنیفائی کے اشتراک سے فروغ امن سے متعلق قانون سازی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدارمعاشرے کی قیام کے لئے سگنیفا ئی نے سٹیک ہولڈرکے گروپ کی صلاحیتوں کو بڑھاکرکمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے لئے ینگ پارلیمنٹیرین کو اکٹھا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ایم پی ایزاور تعلیمی اداروں کے ساتھ تجربات کا تبادلہ ، نوجوانوں کی ترقی کے اقدامات اور کمیونٹی کی سرگرمیاں شامل کی گئی ہیں۔ اراکین اسمبلی نے کہا کہ اپنی مقامی کمیونٹیز میں نوجوانوں اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کو امن کی تعمیر کے عمل میں موثر طریقے سے شامل کیا جا سکتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 63 فیصد آبادی 15 سے 33 سال کے عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح کی صورتحال پاکستان کو ایک منفرد مواقع فراہم کرتی ہے جہاں ہم ان نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کر کے ایک بہتر اور پرامن پاکستان کی جانب گامزن کرسکتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قیام امن کا عمل ایک بار نہیں بلکہ ایسا عمل ہے جس کے لئے امن کے اقدامات کو ہماری مقننہ کے قیام سے جوڑنے کی بار بار ضرورت ہے۔ ایم این اے نوید عامر جیوا نے کہا کہ وسیع تر سامعین کو موثر طریقے سے شامل کرنے کے لئے نوجوانوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائی پی ایف قیام امن کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کرنااز حد ضروری ہے۔ مخدوم زین حسین قریشی نے اختتام پرکہاکہ وائی پی ایف ایک غیر جانبدار ادارہ ہونے کے ناطے باہمی تعاون پر مبنی اصلاحات اور قیام امن کے لئے پالیسی کے نفاذ کے لئے نہایت اہم اور موزوں پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں نوجوان پارلیمنٹیرینز کو بطور فورم ممبر کے اپنے علاقوں میں ایسی سرگرمیوں کی کوشش کرنی چاہیے جس میں شہریوں کو اپنے نمائندوں کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے اور مسائل کو پیش کرنے کا موقع مل سکے ۔











