بھارتی یاتریوں  کے   گروپ  کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کےلئے ٹیری کرک آمد

36

پشاور،1جنوری  (اے پی پی):  کرک کی تحصیل بانڈہ داد شاہ کے علاقے ٹیری میں ہندو مذہبی پیشوا شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی اور ٹیری مندر کی بحالی(تعمیر نو)کا کام مکمل ہونے کے بعد پڑوس ملک بھارت کے ہندو کمیونٹی کے یاتریوں کی ٹیری آمد کے سلسلے میں حکومت سمیت ہندو کونسل پاکستان کی جانب سے غیر معمولی انتظامات کیئے گئے،سال 2022کے پہلے دن ٹیری مندر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے ہفتے کی صبح دبئی سے ہندو کمیونٹی کے 15مرد وخواتین اور بچوں پر مشتمل قافلہ پشاور ائیر پورٹ پہنچا جہاں سے ان کو سرکاری تحویل میں ٹیری مندر پہنچایا گیاجبکہ وہاں پہلے سے پاکستان کے صوبہ سندھ و دیگر علاقوں سے ہندو کمیونٹی کے افراد موجود تھے،ٹیری کی مقامی آبادی کی جانب سے مہمانوں کی آمد کیلئے انتظامات دیکھنے کو ملے اور مقامی آبادی کے حجرے مہمان خانوں میں تبدیل ہوگئے دوسری جانب ہندو کمیونٹی کے بچے ٹیری کے گلی محلوں میں کھیلتے نظر آئے اور بازاروں سے سودا سلف بھی خریدتے رہے اور ہندو کمیونٹی کے افراد مقامی آبادی کے ساتھ گھل مل گئے۔

اس موقع پر ہندو کمیونٹی کے لیگل افیئر کے انچارج روہیت کمار ایڈووکیٹ سمیت دیگر یاتریوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے ٹیری سمیت ہندوں کے دیگر مذہبی جگہوں کی حفاظت اور مقامات کو مذہبی سیاحوں کیلئے کھولنے کے احسن اقدام کو سراہا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کے فروغ سے پوری دنیا کو مثبت پیغام ملے گا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کا یہ احسن اقدام پڑوس ممالک بالخصوص بھارتی حکومت کیلئے بھی ایک مثبت پیغام ہے اور بھارتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کو ان کے مذہبی مقامات تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ مذاہب اور انسانیت کے درمیان فاصلے ختم کردے۔دریں اثنا بھارت سے   200 مرد وخواتین بھارتی  یاتریوں کا قافلہ واہگہ باڈر کے ذریعے صبح تقریبا 11بجے پاکستان میں داخل ہوا اور وہاں لاہور کے ہوائی اڈے سے بذریعہ ہوائی جہازپشاور ہوائی اڈے پہنچا جہاں سے  یہ قافلہ پشاور سے ٹیری کیلئے روانہ ہوا۔

سورس:وی این ایس، کرک