اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے اوور سیزپاکستانیز محمد ایوب آفریدی نے کہا کہ حکومت واپس آنے والے تارکین وطن کی استعداد کار بڑھانے کے لئے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اٹھائے جانے والے اقدامات کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ پائیدار اور باوقار خود روزگار شروع کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی جانب سے استعداد کار میں اضافے اور واپس آنے والے تارکین وطن کو مستقل خود روزگار شروع کرنے میں مدد کے لئے خصوصی معاونت کے طور پر تجارت کے لئے مخصوص ٹول کٹس فراہم کرنے کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے وطن واپس آنے والے تارکین وطن کو با صلاحیت بنانے اور انہیں اپنا مستقل روزگار شروع کرنے میں مدد کرنے کے لیے بطور خاص تجارتی ٹول کٹس فراہم کیں۔ اوپی ایف نے پاکستانی،جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹیگریشن سنٹر کے تعاون سے واپس آنے والے تارکین وطن کو فنون، موٹر سائیکل مکینک، فوٹو گرافی دیگر شعبوںمیں جامع تربیت فراہم کی اور ان تربیتوں کی تکمیل کے بعد واپس آنے والے تارکین وطن کو ٹول کٹس کی فراہمی کے ذریعے بھی معاونت فراہم کی گئی۔ اسلام آباد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وطن واپس آنے والے 82 مہاجرین کو ٹول کٹس کی فراہمی کی گئی۔وطن واپس آنے والے 64 افراد نے فوٹو گرافی، کلنری آرٹس اور موٹر سائیکل مکینک کے شعبوں میں تربیت مکمل کی اور ٹول کٹس حاصل کیں۔ الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر اور میسن کے کاروبار میں 18 ہنر مند افراد نے مہارت حاصل کی، انہیں بزنس ڈویلپمنٹ کی تربیت کے ساتھ ساتھ تقریب میں متعلقہ ٹول کٹس فراہم کی گئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر، او پی ایف ڈاکٹر عامرشیخ نے کہاکہ سالانہ بڑی تعداد میں افراد پاکستان واپس آتے ہیں اور انہیں روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں تعاون کی ضرورت ہے۔ او پی ایف لوگوں کو مختلف طریقوں سے سہولت فراہم کرتا ہے جس میں ملازمتیں حاصل کرنا، مائیکرو لون، ہنر کی تربیت اور ایک جامع ڈیٹا بیس کے ذریعے انہیں مختلف تنظیموں سے جوڑنا شامل ہے۔کنٹری ڈائریکٹر جی آئی زیڈ مسٹر ٹوبیاس بیکر نے کہا کہ سنٹر روزگار اور کاروباری شخصیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں افرادی قوت کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کم ہو رہی ہے۔ مزید برآں، یہ نہ صرف واپس آنے والے تارکین وطن کی بہتر زندگی اورخوشحالی میں مدد کرتا ہے بلکہ ایجنڈا 2030 اور پائیدار ترقی کے اہداف میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں لوگ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہترین روزگار چاہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں لوگ اکثردوسرے ممالک میں ہجرت کو حل سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آبائی ممالک میں بہترین اقتصادی مواقع نہیں دیکھ پاتے۔ تاہم، زیادہ تر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کے لیے ایک مدت کے بعد اپنے آبائی ممالک واپس آتے ہیں، لیکن انھیں اکثر اپنے ملک میں زندگی دوبارہ سے شروع کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب مواقع تلاش کرنے کی بات آتی ہے تو انہیں ہمیشہ رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پی جی ایف آر سی ان وطن واپس آنے والوں کے لیے رہنمائی اور مدد حاصل کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے اوور سیز پاکستانیز محمد ایوب آفریدی کے علاوہ وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سفارتخانے کی سربراہ برائے ترقیاتی تعاون ماریون فیننگز، منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف ڈاکٹر عامر شیخ، جی آئی زیڈ کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ٹوبیاس بیکر، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانیز کے ارکان، ممبران، او پی ایف بورڈ آف گورنرز، سینئر سرکاری حکام، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور سوسائٹی کے دیگر نمائندوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔











