لاہور، 26 جنوری (اے پی پی ):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ طرز کی ریاست کیلئے عدل و احتساب پر مبنی خلافتِ راشدہ کا ماڈل اپنانا ہوگا، مسلم اُمہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے نظام کی طرف چلنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں شان حضرت سیدنا صدیق اکبر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ پورے پاکستان میں صدیق اکبر کا دن منایا جارہا ہے، خلافت راشدہ کا نظام ہی دنیا بھر میں تبدیلی لا سکتا، پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے خلافت راشدہ کا نظام اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام انصاف میں خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، نظام انصاف میں امیر اور غریب کے فرق کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قصاص و دیت کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی اجازت اسلام میں نہیں، شادیوں میں اعتدال کی ضرورت ہے، معاشرے میں انصاف کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ اسلام مہذب اور رواداری کا دین ہے، اسلام میں آمریت نہیں ہے بلکہ اسلام نظام شوری کا قائل ہے، ریاست مدینہ کے لئے اقدامات میں حکومت کا ساتھ دیں، ملک میں اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم قبول کرنے والے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں، ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ہر فرد کو انفرادی سطح پر کوشش کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کو 9 ماہ میں مکمل کرنے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے، عدلیہ ریپ جیسے کیسز کا فیصلہ جلد کریں۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی قیادت 22 مارچ کو پاکستان آرہی ہے، او آئی سی کے نمائندے 23 مارچ کی پریڈ میں شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پیغام پاکستان کو رائج کرنے جا رہے ہیں، پیغام پاکستان کے تحت نچلی سطح پر امن کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب کی مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ 5 فروی کو یوم کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جائے گا، مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہے ۔ مودی ہٹلر ثانی ہے جس نے خطے کا امن تباہ کیا ہوا ہے۔











