اسلام آباد،28فروری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان جنگ میں جس کا ساتھ دیا، وہی ہم پر بمباری کرتا رہا، دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ملک جو کسی کیلئے جنگ لڑ رہا تھا وہ اسی کے حملوں کا نشانہ بھی تھا، ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے جو شرمناک ہیں۔
پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آج اہم معاملات پر اپنی قوم سے مخاطب ہو رہا ہوں، دنیا میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جس کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے حال ہی میں چین اور روس کا دورہ کیا ہے، میرے والدین غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ہمیشہ مجھے یہ احساس دلایا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہو، آزاد خارجہ پالیسی وہ ہوتی ہے جو اپنے ملک اور عوام کے مفاد میں بنائی جاتی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں حصہ لیا، میں نے ہمیشہ کہا کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی تعلق اور لینا دینا نہیں تھا، ہمیں اس جنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی، پہلے ہم نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں شرکت کی اور نائن الیون کے بعد ہم امریکہ کے اتحادی ہو گئے، افغانستان میں روس کے غیر ملکی قبضہ کے خلاف جدوجہد جہاد تھی لیکن نائن الیون کے بعد جنگ دہشت گردی کہلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فارن پالیسی پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، 35 لاکھ لوگوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنی پڑی، ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لئے یہ شرمناک تھا کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ملک جو کسی کیلئے جنگ لڑ رہا تھا وہ اسی کے حملوں کا نشانہ بھی تھا، ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے جو شرمناک ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ فوجی آمروں کو استعمال کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کو تسلیم کرے لیکن فوجی آمر مشرف کے دور میں صرف 10 ڈرون حملے جبکہ زرداری اور نواز شریف کے جمہوری دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد خارجہ پالیسی ہوتی تو ہمارے جمہوری حکمرانوں کو امریکہ کو کہنا چاہئے تھا کہ ڈرون حملوں میں بے قصور لوگ مر رہے ہیں لیکن زرداری اور نواز شریف دونوں نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک بھی بیان نہیں دیا بلکہ آصف زرداری کے حوالہ سے برطانوی صحافی نے لکھا کہ زرداری نے کہا کہ انہیں بے قصور لوگوں کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکمران ایسا تب کہہ سکتے ہیں جب ان کے پیسے، جائیدادیں اور اربوں ڈالر کے اثاثے اور آف شور اکائونٹس ملک سے باہر ہوں، تب انہیں اپنا پیسہ بچانے کی فکر ہوتی ہے۔











