سوشل میڈیاپر بڑھتے ہوئے گند اور صحافت کے نام پر مافیاز کے خلاف قانون سازی ضروری ہے ؛ وزیراعظم عمران خان

29

 

اسلام آباد،28فروری  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے  کہا  ہے کہ  سوشل میڈیاپر بڑھتے ہوئے گند اور صحافت کے نام پر مافیاز کے خلاف قانون سازی ضروری ہے۔

پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ ایک اور اہم ایشو پر بات کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ایک ایشو بنا ہوا ہے کہ حکومت آزادی صحافت پر پابندیاں لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا لاء 2016ء میں بنا تھا، ہم اس میں محض ترمیم کر رہے ہیں، جس سربراہ نے کرپشن نہیں کی اور وہ قانون نہیں توڑتا اسے آزادی صحافت سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا، میڈیا میں 70 فیصد خبریں ہمارے خلاف ہوتی ہیں لیکن ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا، یہ قانون ہم حکومت کے خلاف تنقید کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے لائے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسا غیر اخلاقی مواد آ رہا ہے جو ہماری مذہبی اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہے، چائلڈ پورنوگرافی ہو رہی ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا، ایف آئی اے کے پاس 94 ہزار کیسز زیر التواء ہیں، لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں، ابھی تک صرف 38 کیسوں کا فیصلہ ہوا ہے، وزیراعظم تک کو نہیں بخشا گیا، ایک صحافی نے میری اہلیہ کے حوالہ سے الزام لگایا اور بنی گالہ میں میرے گھر کے حوالہ سے بھی مجھ پر الزام لگائے گئے، میں نے اس کے خلاف مقدمہ کیا لیکن تین سال ہو گئے وزیراعظم کو بھی انصاف نہیں ملا، اب وہی صحافی پھر خبریں دے رہا ہے، اگر وزیراعظم کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے اور ایسی خواتین کے ساتھ جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا۔

 وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف دور میں جب اسی صحافی نے تنقید کی تھی تو اسے تین دن بند کرکے ڈنڈے مارے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک وزیر نے لندن جا کر انصاف لیا، مراد سعید بھی برطانیہ جا کر انصاف کے حصول کیلئے مقدمہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، شوکت خانم کے بارے میں جنگ گروپ نے لکھا کہ شوکت خانم کا پیسہ پی ٹی آئی کو جا رہا ہے، ہمارا مؤقف تک نہیں لیا گیا، حنیف عباسی کے الزامات کے خلاف شوکت خانم ہسپتال کیس ماتحت عدالت میں جیت گیا لیکن 10 سال ہو گئے انصاف نہیں ملا، اب شوکت خانم ہسپتال والے لندن جا کر کیس کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ آزادی صحافت کے نام پر مافیاز بلیک میل کر رہے ہیں اور پیسے لے کر گند اچھالا جا رہا ہے، میں نے ساری زندگی تنقید برداشت کی، انگلینڈ میں بھی میں نے ہرجانے کا کیس کیا، وہاں کسی کی جرأت نہیں ہو سکتی کہ ایسی غیر ذمہ دار خبریں دی جائیں، یہ قانون اس ملک کیلئے ضروری ہے، مائیں مجھے کال اور میسج کرتی ہیں کہ صورتحال میں کیا کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیکا قانون سے اچھے صحافی خوش ہوں گے، اچھی صحافت معاشرے کا اثاثہ ہے، میڈیا کی تنقید غلطیوں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے لیکن وزیراعظم کی اہلیہ پر کیچڑ اور گند اچھالنا کہاں کی صحافت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے بارے میں تین بڑے اخباروں نے لکھا کہ انہیں جادو ٹونے کے ذریعے منتخب کیا گیا، مغرب میں کوئی ایسا لکھتا تو اتنا بڑا جرمانہ ہوتا کہ اخبار ہی بند ہو جاتا۔