فیصل آباد ۔6فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ و ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ جنہوں نے ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنا، چوراہوں پر لٹکانا اور پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا مال نکلوانا تھا وہ چوروں کا ٹبر ایک بار پھر اکٹھا ہورہا ہے لیکن لٹیروں کے گٹھ جوڑ سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں جبکہ ملک کے غیور عوام نے کل دیکھا کہ جو مریم صفدر اور ان کے حواری کل تک زرداری اور عمران کو آپس میں بھائی بھائی قرار دے رہے تھے اور ان دونوں جماعتوں نے ہر آزمائش کے وقت ایک دوسرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپا وہی زرداری، بلاول، شہباز شریف، مریم صفدر اور حمزہ کل اکٹھے ہوکر دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے تھے مگر اس میں سے خواجہ سعد رفیق جیسے سینئر سیاستدان کو موجود ہونے کے باوجود فریم سے نکال کر کھڈے لائن لگایا گیا وہ ان جماعتوں کی سنجیدہ قیادت کیلئے شرمناک اور لمحہ فکریہ ہے ۔ وہ اتوار کی دوپہر مسلم ٹاؤن کینال بلاک میاں ذوالفقار علی شاہد روڈ سرگودھا روڈ فیصل آباد پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت و کالونیز میاں خیال احمد کاسترو، سابق ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد جٹ اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح شہباز شریف، مریم صفدر اور حمزہ شہباز زرداری اور بلاول کو گھسیٹ گھسیٹ کر کبھی فرائیڈ رائس، کبھی مٹن قورمہ، کبھی بھنے تیتر بٹیر، کبھی بریانی، کبھی منچورین اور کبھی کولڈ ڈرنک و سویٹ پیش کر رہے تھے اس نے واضح کردیا کہ ان لوگوں کی کوئی زبان، کوئی دین ایمان،کوئی اصول، کوئی ضابطہ اور انسانی و اخلاقی وعدوں کی کوئی پاسداری نہیں بلکہ ان کا سب کچھ صرف اور صرف اقتدار کا حصول اور عمران خان سے نجات ہے جس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات میں یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں لیکن ہم اس سے بھی بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ ان جماعتوں کے کئی پارلیمینٹیرینز ہمارے براہ راست اثر میں ہیں جس کا اندازہ انہیں سینیٹ و قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالے حالیہ حکومتی بلوں سے ہو جا نا چاہیے جس میں سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر سمیت بعض لوگ ہمارے کہنے پر شریک نہیں ہوئے اور اس سے بھی بڑھ کر بلاول زرداری کی طرف سے ان کا استعفیٰ مسترد کرنا یہ واضح کر رہا ہے کہ کون کس کے زیر اثر ہے لہٰذا یہ چوروں کا ٹبر جو مرضی کر لے حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن سعد رفیق جیسے سینئر و با اصول سیاستدانوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ان چوروں کے ٹبر نے ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دینے اور مل کر لوٹ مار کرنے کیلئے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے پھر قدم قدم پر انہوں نے ایک دوسرے کو دھوکہ دیا لیکن اب پھر یہ لٹیرے جس مقصد کیلئے اکٹھے ہو رہے ہیں انہیں اس میں کسی صورت کامیابی نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالے دنوں میں یہ لوگ مل کر جس قسم کی سیاست کرنا چاہتے ہیں ملک کے غیور و باشعور عوام ان کو یکسر مسترد کردیں گے کیونکہ ابھی تک وہ ان خاندانوں کی لوٹ مار اور ان کے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ یہ پرائیویٹ لمیٹڈ پارٹیاں آقاؤں کے ساتھ اپنے ماتحتوں کو برداشت نہیں کرتیں اسی لئے سعد رفیق جیسے لوگوں کو فریم سے نکالتے ہوئے تجدید عہد کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان سے جان چھڑوالی جائے تو دوبارہ مل کر لوٹ مار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عمران خان غریب عوام کی خدمت کا وعدہ پورا کر رہے ہیں اور شوکت خانم کینسر ہسپتال میں 70 فیصد مریضوں کا علاج فری ہورہا ہے، نمل میں 100 فیصد اور القادر میں 90 فیصد طلبا کو مفت تعلیم کی سہولت مہیا کی جارہی ہے، اسی طرح 260 ارب روپے سے احساس پروگرام، لنگر خانے، پنا ہ گاہیں اور راشن پروگرام پر عمل جاری ہے جبکہ دوسری جانب جن اداروں کی انکم اور منافع میں شاندار اضافہ ہوا ہے ان کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی بات کی جارہی ہے اور وزیر اعظم کے کہنے پر بعض ٹی وی نیوز چینلز اور کئی بڑے صنعتی اداروں نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کردیا ہے جبکہ باقی اداروں سے بھی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لارج سکیل کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو اپنی پرافٹ ریشو کے مطابق تنخواہیں دینے پر راضی ہوگئی ہیں جن سے اب ان کی مالی مشکلات کم ہوں گی۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ اگرچہ عمران خان غریب عوام کی دل کھول کر معاونت کر رہے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس انداز میں ان کی مدد نہیں کر سکے جس طرح نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری نے کی کیونکہ انہوں نے اپنے ملازمین، 9،9 ہزار روپے لینے والے ملک مقصود جیسے چپڑاسیوں، پاپڑ والوں، ریڑھی والوں کے اکاؤنٹس میں 4،4 ارب ڈالے مگر ہم ایسا نہیں کر سکے کیونکہ ہمارے پاس وہ گیدڑ سنگھی نہیں تھی جو ان کے پاس تھی لیکن انہوں نے یہ ظلم کیا کہ جو اربوں روپے اپنے چپڑاسیوں، مالیوں، ملازموں، ریڑھی چھابڑی والوں کے اکاؤنٹس میں ڈالے وہ اگلے ہی روز نکلوا کر کہیں اور منتقل کر لئے اور ان غریبوں کے اکاؤنٹ میں 10،20 لاکھ بھی نہ رہنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ مسرور انور اور جبار سمیت 15 نام ہیں جن کے اکاؤنٹس میں اربوں ٹرانسفر کئے گئے اور یہ سب کچھ انہوں نے کیا جو کہتے تھے کہ ہماری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نے چنے، نان، چھلی، سموسے، پکوڑے، سبزی بیچنے والے کا ہاتھ پکڑا ہے اور انہیں صحت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا ہے جس سے اب غریب سے غریب آدمی کی جیب میں بھی 10 لاکھ روپیہ براہ راست آگیا ہے جس سے اب وہ ڈاکٹر ہسپتال، ساحل ہسپتال، نیشنل ہسپتال اور کسی بھی بڑے سے بڑے ہسپتال میں اپنا اور اپنے اہل کانہ کا علاج کرواسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان9 فروری سے فیصل آباد ڈویژن میں ہر گھرانے کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں جس سے اب کوئی گھرانہ علاج کے بغیر نہیں رہ سکے گا نیز وہ 9 فروری کو وزیراعظم کے اعلان سے قبل ایک پریس کانفرنس کے ذریعے تمام ہسپتالوں کی تفصیل اور ہیلتھ کارڈ کے امور سے عوام کو آگاہی فراہم کر دیں گے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ ہم شہباز شریف سے وہ نسخہ پوچھنا چاہتے ہیں جس سے برطانیہ میں رہنے والا ببلو 17 سال کی عمر میں اربوں پتی بن گیا مگر اس کے اعلیٰ اور ذہین و فطین دماغ کے برعکس اتنی عمر میں ہمارے بچے سکولوں کالجوں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بچے بچے سے شریف خاندان اور زرداری کے بارے میں پوچھ لیں ہر کوئی یہی کہے گا کہ یہ چور ہیں اور عمران خان نے تو پہلے ہی بتادیا تھا کہ سب چور اس کے خلاف خود کو بچانے کیلئے اکٹھے ہوں گے اور ایسا ہی ہو رہا ہے لیکن یہ چور جو مرضی کرلیں یہ احتساب اور عتاب سے بچ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اقدامات سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے، برآمدات 20 سے بڑھ کر 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، کسان کو اربوں روپے کا اضافی فائدہ ہوا ہے، اربوں روپے کی نئی لومز و دیگر مشینری ملک میں آرہی ہے، کباڑ کے بھاؤ بکنے والی لومز پر کام کیلئے اب بندے نہیں مل رہے،فارن ریزرو 22 ارب ڈالر سے زائد ہیں، خسارہ 20 ارب ڈالر پر نہیں رہا، پاکستان موٹر سائیکل تیار و فروخت کر نیوالا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے، ٹریکٹرز اور کاروں کی ریکارڈ سیل ہو رہی ہے، اسی طرح کھانے پینے کی اشیا، کپڑے، جوتے، گراسری کی چیزوں کی سیل میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ اگرچہ عالمی حالات اور کورونا کی وجوہات کی بنا پر مہنگائی بڑھی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب رہا ہے اور چونکہ آج عمران خان واپس پہنچ گئے ہیں لہٰذا وزارت خارجہ اور متعلقہ حکام ایک تفصیلی بریفنگ میں ان کے دورہ چین کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے جس میں کئی نئے معاہدے بھی کئے گئے ہیں جن سے پاکستان کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان فوٹو سیشن کی بجائے عملی اقدامات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور انہیں بیرون ممالک جو پذیرائی مل رہی ہے اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی کیونکہ دنیا جا نتی ہے کہ نہ تو وہ کرپٹ ہیں اور نہ ہی انہوں نے شریفوں و زرداریوں کی طرح بیرون ملک اثاثے بنائے اور نہ ہی اپنوں پر نوازشات کی بارش کی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جب باہر جاتے ہیں تو پاکستان کی شان بڑھتی ہے مگر سابق حکمران اپنی جھوٹی شان بنانے کیلئے پرانی تصویریں شیئر کر کے ہی خوش ہو جا تے تھے جیسا کہ پرویز رشید نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں اسلئے اگر میاں نواز شریف چاہیں تو وہ کسی شہید کی بیوہ، کسی مطلقہ، یا کسی غریب و بے سہارا خاتون سے شادی کر سکتے ہیں کیونکہ اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ یہ کار ثواب بھی ہے جس کیلئے وہ ان کی معاونت کر نے کو تیا ر ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ شریف خاندان کو تو اب مانگنے پر سائیکل کوئی نہیں دے گا اب انہیں شناختی کارڈ ملنا بھی ممکن نہیں بلکہ ہوسکتا ہے کہ انہیں کوئی اپنا ہیلتھ کارڈ بھی نہ دے کہ کہیں وہ اس پر اپنا علاج ہی نہ کروالیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ پھوکی بڑھکیں مارنے کے ماہر ہیں جنہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی عدالت نے شہباز شریف کو سزا سنائی تو نہ صرف وہ اس کی عدالت بلکہ اس کے گھر کا بھی گھیراؤ کریں گے لیکن اس پر افسوسناک امر یہ کہ شہباز شریف سمیت ان کے کسی آقا نے ابھی تک اس کی تردید نہیں کی بلکہ خود عدلیہ نے بھی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا لہٰذا وہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیں جبکہ ان کا وزیر داخلہ سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ بھی اس کھلی دھمکی پر مقدمہ درج کروائیں ورنہ وہ خود عدالت جا ئیں گے کیونکہ رانا ثنااللہ کا یہ اقدام آزاد عدلیہ کو دباؤ میں لانے اور میرٹ پر فیصلوں سے روکنے سمیت چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کی کوشش ہے کیونکہ گھروں میں ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہم ان کا تقدس پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے والے جان لیں کہ ان کے آقاؤں نے تو قطر، دوبئی، لندن بھاگ جا نا ہے مگر ان کو سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ کا وقار سب سے عزیز ہے جس پر حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوجاتا ان کی ہر پلیٹ فارم پر ہر طرح سے مدد جاری رکھی جا ئے گا جس کا ثبوت یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں اربوں روپے کے تعمیراتی و ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں اور شاہرات کی تعمیر بھی جاری ہے جبکہ فیصل آباد چنیوٹ روڈ پر بھی کام جلد شروع ہوجا ئے گاجس سے شہریوں کو شاندار سفری سہولیات میسر آسکیں گی۔











