اسلام آباد،28فروری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 برس میں دنیا بھر میں معاشی بحران کے باوجود پاکستان نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے ، ملک اور معیشت اب صحیح راستے پر چل پڑے ہیں۔
پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2018ء میں جب ہمیں حکومت ملی تو تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ورثہ میں ملا، اندرونی اور بیرونی مالیاتی خسارے کا سامنا تھا، تین ہفتے کی درآمدات کیلئے بھی پیسے نہیں تھے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہو گئے تھے، مشکل وقت سے ہم نکل ہی رہے تھے کہ کورونا آ گیا، یہ ایک ایسا بحران تھا جو 100 سال میں ایک بار آتا ہے، کورونا کے باعث دنیا کے حالات تبدیل ہو گئے اور اچھی بھلی معیشتیں اجڑ گئیں، برطانیہ جیسا ملک اس سے شدید متاثر ہوا، ہماری گروتھ ریٹ جو کہ 0.2 فیصد بھی نہیں تھی، کے باوجود پاکستان کورونا سے نمٹنے میں کامیاب ہوا، کورونا کی وجہ سے دنیا میں لاک ڈائون ہوئے اور سپلائی لائنز متاثر ہوئیں جس سے اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں اور پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر آ گئی، ہم دنیا سے علیحدہ نہیں ہیں، تیل، گھی اور دالوں سمیت پاکستان بیشتر اشیاء ضروریہ باہر سے منگواتا ہے، ہماری 60 فیصد بجلی درآمدی تیل پر منحصر ہے، کوئلہ اور گیس سمیت ہر چیز کی قیمتیں بڑھ گئیں، ہم سے مضبوط ملک بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئے، امریکہ جس کی معیشت سب سے زیادہ تگڑی سمجھی جاتی ہے، میں 40 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی اور مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک پہنچ گئی، کینیڈا میں 30 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی کی لہر آئی، برطانیہ میں 1992ء کے بعد اور ترکی میں 20 سال کے بعد اتنی مہنگائی ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ جو اعداد و شمار دے رہے ہیں عوام چاہیں تو خود گوگل پر یہ اعداد و شمار چیک کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور، 1971ء سے 1977ء تک 13.9 فیصد، دوسرے دور میں دو سال کے اندر 8.3 فیصد، تیسرے دور 1994ء سے 1996ء تک 11.6 فیصد تک مہنگائی ہوئی جبکہ آخری دور 2008ء سے 2012ء تک 13.6 فیصد تک مہنگائی ہوئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں 1990ء سے 1993ء تک 10.8 فیصد، 1997ء سے 1999ء تک دوسرے دور میں 7.2 فیصد مہنگائی ہوئی جبکہ تیسرا دور جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم تھیں، میں بھی 5 فیصد مہنگائی ہوئی۔ اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے تین سال میں مہنگائی کی شرح 8.5 فیصد ہے، ماضی کے مقابلہ میں ہمارے دور میں مہنگائی کم ہے جبکہ اپوزیشن مہنگائی کے نام پر شور مچا رہی ہے اور ہماری حکومت گرانا چاہتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ نااہل حکومت ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر دنیا نے تسلیم کیا کہ ہماری حکومت نے کورونا جیسے بحران میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اکانومسٹ میگزین نے لکھا کہ تین سالوں میں پاکستان اپنی کارکردگی کے لحاظ سے 190 ملکوں میں سے ان تین اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنی معیشت بھی بچائی اور اپنے عوام کو بھی۔ ورلڈ اکنامک فورم نے بھی پاکستان کی کارکر دگی کو سراہا جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہماری مثال دی، اگر ہم نااہل ہوتے تو کیا دنیا ہماری تعریف کرتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نے بل گیٹس مجھ سے ملنے آئے تو خاص طور پر پوچھا کہ پاکستان اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوا، جب وہ این سی او سی میں گئے تو وہاں انہوں نے ہماری پالیسیوں کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، ہمارے احساس پروگرام کو ورلڈ بینک نے دنیا کے چار اولین پروگراموں میں شامل کیا جن کی وجہ سے عوام کی زندگیوں میں آسانی آئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے اس سے قبل پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کی پالیسیوں کی تعریف نہیں کی، موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے بھی دنیا ہماری کاوشوں کی معترف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ معیشت پہلے ہی خراب تھی، پاکستان بھی کورونا کی لپیٹ میں آ گیا، اس کی وجہ سے پوری دنیا میں قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئیں، دوسرے طرف افغانستان کی صورتحال کے باعث لوگوں نے پاکستان سے ڈالر خریدنے شروع کر دیئے اور اب یوکرین کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی اور ہماری شرح نمو 5.6 فیصد ہے جو (ن) لیگ کے گذشتہ پانچ سالہ اقتدار کے آخری سال میں تھی جب عالمی حالات کا اثر بھی نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی غیر ملکی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، سمندر پار پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر کی رقوم بھیجیں، ہماری ایکسپورٹ پاکستان کی تاریخ میں اس وقت بلند ترین سطح پر ہیں، پاکستان نے 38 ارب ڈالر کی تاریخی برآمدات کی ہیں، 2000ء سے 2020ء تک کا گراف دیکھیں تو برآمدات کے لحاظ سے روانڈہ، ویتنام، چین، بھارت، بنگلہ دیش جیسے ملک کہاں سے کہاں چلے گئے لیکن ہماری برآمدات نہیں بڑھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ہم نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا جو کہ 6 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں 31 فیصد اضافہ ہوا، ہماری چار بڑی فصلوں گندم، چاول، گنے اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، یہ اس لئے ممکن ہوا کیونکہ حکومت نے کسانوں کو ان کا حق دلوایا اور انہیں کسان کارڈ کی سہولت دی، شوگر ملوں سے ان کے پیسوں کی ادائیگی کرائی، اس سے قبل کسان لائنوں میں لگے رہتے تھے لیکن انہیں پیسے نہیں ملتے تھے، ہم نے گنے کی فصل کی پوری قیمت دلوائی، حکومتی پالیسیوں کی بدولت کسانوں کے پاس 1100 ارب روپے زیادہ گئے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زمینوں اور فصلوں پر زیادہ پیسے خرچ کئے جس کی بدولت ریکارڈ ممکن ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، بڑی کمپنیوں نے 930 ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا، نجی شعبہ نے 1400 ارب روپے کے قرضے لئے جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، ٹریکٹرز کی فروخت میں 20 فیصد، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں 81 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل کے شعبہ نے بھی ترقی کی، تیل کی کھپت سب سے زیادہ رہی، تعمیرات کے شعبہ میں 1500 ارب روپے گئے جس سے روزگار کے مواقع بڑھے، پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23.2 ارب ڈالر ہیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ تیل کی قیمتیں جو دنیا میں اوپر چلی گئی ہیں یہ کم ہوں گی لیکن یوکرین میں جو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ قیمتیں کم نہیں ہوں گی، گندم کی قیمت بھی اوپر جائے گی۔











