اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی نے بحری امور کے وزیر سید علی حیدر زیدی کے والد کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی اور بلندی درجات کے لیے دعا کی۔ چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔ سیکرٹری وزارت بحری امور نے بتایا کہ گوادر کی کو 3 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ یومیہ 5 ملین گیلن پانی کی طلب ہے۔ سیکرٹری بحری امورنے یقین دہانی کرائی کہ جولائی تک گوادر کو 1.5 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کر دیا جائے گا، سیکرٹری نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹینک کے سائز کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے گوادر کے عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔کمیٹی نے گوادر پورٹ پر ایل این جی امپورٹ ٹرمینلز اور ورچوئل ایل این جی پائپ لائن (گاڑی پر مبنی) کے قیام کی تجویز پر تفصیل سے غور کیا تاکہ گوادر پورٹ کے ذریعے مستقبل میں ایل این جی کی اضافی درآمد کی اجازت دی جا سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گوادر بندرگاہ پر ایل این جی ٹرمینلز کی تنصیب کے لیے تین درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ کمیٹی کو ان درخواستوں کی صورتحال اور اس پر جی پی اے کے موقف کے بارے میں بتایا گیا۔ چیئرمین جی پی اے نے بتایا کہ گوادر پورٹ ماسٹر پلان ایک تفصیلی منصوبہ اور ایل این جی ٹرمینلز کے قیام اور اس سے منسلک سمندری اور غیر ملکی تنصیبات کے لیے مخصوص جگہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے مطابق مخصوص جگہ پر ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس میں مزید غور و خوض کے لیے موخر کر دیا۔ کمیٹی نے مالی سال 2021ـ22 کے پہلے چھ مہینوں کے دوران وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر میں کشتیوں کے لیے برتھنگ کی سہولیات کی اپ گریڈیشن میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا بجٹ 37.975 ملین مختص کیا گیا ہے۔ دیگر منصوبوں میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس، پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر اور گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے لیے میرین سروسز ویسلز کا حصول 93 فیصد، 90 فیصد اور 85 فیصد فزیکل پراگرس شامل ہیں۔ لیڈنگ لائٹ ٹاور، گوادر کی بحالی کا کام بھی 40 فیصد کے حساب سے 20.590 ملین روپے کے مختص بجٹ سے جاری ہے۔کمیٹی نے مالی سال 2021ـ22 کے بجٹ کی مختص رقم اور اخراجات کا بھی جائزہ لیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ سال 2022ـ23 کے لیے 1190 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سینیٹر عابدہ محمد عظیم، محمد عبدالقادر، کہدہ بابر، دانش کمار اور سینیٹر نسیمہ احسان نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزارت کے سینئر افسران اور اس سے منسلک محکموں نے بھی شرکت کی۔











