سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس، اوگراکی تجویز کردہ دو ترامیم  کی  منظوری

18

اسلام آباد۔16فروری  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے اوگرا کے قیمتوں کے تعین اور نوٹیفکیشن کے عمل کے حوالے سے “دی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی” کی تجویز کردہ دو ترامیم کو متفقہ طور پر منظور ر کرلیا ، ترامیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت مقررہ مدت  40 رو کے اندر اوگرا کی طرف سے تجویز کردہ مختلف صارفین کے لیے قیمتوں کی منظوری دے گی اور اگر حکومت  ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اسے منظور شدہ سمجھا جائے گا،دوسری ترمیم آرڈیننس کے عنوان کو تبدیل کرنا اور پیٹرولیم لیوی آرڈیننس 1961 میں ایل این جی    ان پٹ  سے متعلق تھی ۔تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی رانا مقبول احمد نے کہا کہ قیمتوں میں  اضافہ بلاجواز ہے، چیئرمین کمیٹی نے اوگرا حکام سے استفسار کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 12 روپے کیوں وصول کر رہی ہے جب کہ یہ رقم بیچنے والوں کو ادا نہیں کی جائے گی تاہم حکام چیئرمین کمیٹی کو پوچھے گئے سوال پر مطمئن نہیں کر سکے۔ سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پندرہ روز قبل عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف دیا تھا اور اب اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں 12 روپے اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ایک بار لوگوں کو ریلیف مل جائے تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور  علی محمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ، انہوں نے  کمیٹی کو یقین دلایا کہ  وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دی گئی سبسڈی برقرار رہے گی۔ اس معاملے پر چیئرمین کمیٹی نے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جو تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر غور کرے گی اور اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گی۔اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری افضل لطیف نےسینٹرل سلیکشن بورڈ کے حالیہ فیصلوں پر بحث کے دوران سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے افسران کی برطرفی کی وجوہات پوچھنے پر   کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے حساسیت اور سب جوڈیشل اسٹیٹس کی وجہ سے کمیٹی کے ساتھ معلومات شیئر کرنے  اتفاق نہیں کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا  کہ رپورٹ کا جائزہ لیناپارلیمنٹ کا استحقاق ہے،کمیٹی معلومات کی خفیہ نوعیت کے پیش نظر اس کا ان کیمرہ اجلاس منعقد کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ریٹائرمنٹ رولز میں ترامیم کی ضرورت ہے اور ہدایت کی کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رولز کو معقول بنانے میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے۔اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری، سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر زرقا سہروردی، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور اوگرا اور نیپرا کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔