فیصل آباد ۔8فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ وترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے منگل کی شام ضلع کونسل فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان طبقاتی تفریق کے خاتمے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ
زرداری اور شریف خاندان نے ملکی خزانہ بیدردی سے لوٹالیکن اب ملک میں دو نہیں ایک نظام چلے گا۔ غریب، متوسط اورسفید پوش کو بھی امیر کے برابر سہولیات ملیں گی۔آج سے فیصل آباد ڈویژن کے ہر شہری کوبھی ہیلتھ کا رڈ ملے گا۔ وہ بڑے لوگوں کی طرح بڑے بڑے ہسپتالوں میں اپنا 10لاکھ روپے تک مفت علاج کرواسکیں گے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کی اور عملی اقدامات اٹھائے جبکہ ملک میں دونہیں ایک نظام پاکستان تحریک انصاف کا منشور تھا جس کے باعث جہاں ماضی میں چور ڈاکو اور سیاسی لبادے میں موجود صاحب اقتدار لوگ ملکی خزانہ لوٹتے رہے اس کے برعکس اب ملک میں کسی وزیر،مشیر یا بیوروکریٹ کو کرپشن کی جرات نہیں ہوسکتی کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اسلام آباد میں 6فٹ کا عمران خان نامی انتہائی ایماندار ودیانتدار وزیراعظم ڈنڈا پکڑ کر بیٹھا ہو اہے لہٰذا اگر کسی نے کرپشن کی جرات کی تو یہ ڈنڈا اس کے گٹوں پر آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ پہلے ملک پر 30سال تک دوٹبروں نے حکومت کی جو ملک میں اپنا علاج کروانا تو دور کی بات ، وہ ٹیسٹ کروانے کیلئے بھی امریکہ اور برطانیہ جاتے تھے جہاں سے ان کی جھوٹی سچی رپورٹیں بنتی تھیں نیز ان کی دیکھا دیکھی صف اول کے بعد صف دوم اور صف سوم میں شامل رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی جیسے لوگ بھی جنہوں نے اپنے آقاؤں کی دیکھا دیکھی مال بنایا وہ بھی اپنے علاج کیلئے باہر جانا شروع ہوگئے حالانکہ ان کی مشینری کا باہر علاج ہوہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے لوٹ لوٹ کر ملک میں تباہی مچا دی اور ایسا نظام بنایا کہ جس میں ٹاٹ والے سکولوں میں پڑھنے والے بچے بیکن ہاؤس کے بچوں کا مقابلہ نہ کرپاتے کیونکہ وہ کوئی اور ہی دنیا لگتی تھی لہٰذا وہ نوکری کا بھی نہیں سوچ سکتے تھے اس طرح امیر کا بچہ آگے جاتا اور غریب کا بچہ وہیں رلتارہ جاتا۔ انہوں نے کہاکہ جس ٹاٹ سکول سے وہ پڑھے وہاں ان کے 30ہم جماعت بچوں میں سے صرف ایک بچہ نیوی میں سپاہی بنا اور وہ خود پڑھ کر ایک بڑی یونیورسٹی میں ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہوئے لیکن عمران خان نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب ملک میں دونہیں بلکہ ایک نظام چلے گا اور جس طرح بڑے بڑے لوگ بڑے بڑے ہسپتالوں میں اپنا علاج کرواتے ہیں اسی طرح غریب آدمی بھی شفا انٹرنیشنل، ڈاکٹر ہسپتال،ساحل ہسپتال اور نیشنل ہسپتال جیسے بڑے بڑے ہسپتالوں میں اپنا علاج کروائے گا۔











