لاہور، 03 فروری (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمعرات کو ورچوئل یونیورسٹی اور اس میں ایل ایم ایس مینجمنٹ،آی سی ٹی انفراسٹرکچر اور پروڈکشن ہاؤس کے لیے جدید ترین سہولیات کا دورہ کے بعد فیکلٹی ممبران اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کی انرولمنٹ 9 فیصد، انڈیا 28 فیصد اور بنگلہ دیش میں21 فیصد ہے، اس طرح دنیا کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے تحقیق پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر اورطلباء کو جدید ترین تکنیکی ترقیات سے آگاہ کرنے کے لیے روایتی یونیورسٹیوں کو ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے ماڈل کی طرز پہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ایسے پروگرام تیار کرنے چاہئیں، جو معاشرے کے کم آمدنی والے طبقوں کو بااختیار بنائیں اور ان کی مہارتوں کی قدر میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یونیورسٹی نرسنگ میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام تیار کرنے اور اسکول سے باہر بچوں کے لیے پروگرام تیار کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ مل کر نجی شعبے کی مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ معیاری تعلیم کے مواقع ہر کمیونٹی کے لیے دستیاب ہونے چاہیں اور اس مقصد کے لیے آن لائن تعلیمی نظام بہترین ماڈل ہے۔انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل مہارتیں سیکھیں۔ آپ سب سے باوقار تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں، جو پاکستان میں ای لرننگ کا علمبردار ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کووڈ کے دوران جب پاکستان کی ہر یونیورسٹی کو مسائل کا سامنا تھا، ورچوئل یونیورسٹی نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے تعلیمی سیٹ اپ کوجاری رکھا۔قبل ازیں صدر مملکت کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ورچوئل یونیورسٹی اس وقت پاکستان کے 120 سے زائد شہروں میں موجود ہے جس میں 125,000 سے زائد فعال طلباء اور دنیا کے 62 ممالک سے 1860 بیرون ملک مقیم طلباء ہیں۔ پچھلے 20 سالوں سے ورچوئل یونیورسٹی نے عوام کو ان کے جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر انتہائی سستی اعلیٰ تعلیم فراہم کی ہے۔











