اسلام آباد،28فروری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے پیر کی شام قوم سے خطاب میں
کہا ہے کہ پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے تین سال میں مہنگائی کی شرح 8.5 فیصد ہے، ماضی کے مقابلہ میں ہمارے دور میں مہنگائی کم ہے جبکہ اپوزیشن مہنگائی کے نام پر شور مچا رہی ہے اور ہماری حکومت گرانا چاہتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ نااہل حکومت ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر دنیا نے تسلیم کیا کہ ہماری حکومت نے کورونا جیسے بحران میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اکانومسٹ میگزین نے لکھا کہ تین سالوں میں پاکستان اپنی کارکردگی کے لحاظ سے 190 ملکوں میں سے ان تین اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپنی معیشت بھی بچائی اور اپنے عوام کو بھی۔ ورلڈ اکنامک فورم نے بھی پاکستان کی کارکر دگی کو سراہا جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہماری مثال دی، اگر ہم نااہل ہوتے تو کیا دنیا ہماری تعریف کرتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نے بل گیٹس مجھ سے ملنے آئے تو خاص طور پر پوچھا کہ پاکستان اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوا، جب وہ این سی او سی میں گئے تو وہاں انہوں نے ہماری پالیسیوں کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، ہمارے احساس پروگرام کو ورلڈ بینک نے دنیا کے چار اولین پروگراموں میں شامل کیا جن کی وجہ سے عوام کی زندگیوں میں آسانی آئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے اس سے قبل پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کی پالیسیوں کی تعریف نہیں کی، موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے بھی دنیا ہماری کاوشوں کی معترف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ معیشت پہلے ہی خراب تھی، پاکستان بھی کورونا کی لپیٹ میں آ گیا، اس کی وجہ سے پوری دنیا میں قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئیں، دوسرے طرف افغانستان کی صورتحال کے باعث لوگوں نے پاکستان سے ڈالر خریدنے شروع کر دیئے اور اب یوکرین کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی اور ہماری شرح نمو 5.6 فیصد ہے جو (ن) لیگ کے گذشتہ پانچ سالہ اقتدار کے آخری سال میں تھی جب عالمی حالات کا اثر بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیر ملکی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، سمندر پار پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر کی رقوم بھیجیں، ہماری ایکسپورٹ پاکستان کی تاریخ میں اس وقت بلند ترین سطح پر ہیں، پاکستان نے 38 ارب ڈالر کی تاریخی برآمدات کی ہیں، 2000ء سے 2020ء تک کا گراف دیکھیں تو برآمدات کے لحاظ سے روانڈہ، ویتنام، چین، بھارت، بنگلہ دیش جیسے ملک کہاں سے کہاں چلے گئے لیکن ہماری برآمدات نہیں بڑھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ہم نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا جو کہ 6 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں 31 فیصد اضافہ ہوا، ہماری چار بڑی فصلوں گندم، چاول، گنے اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، یہ اس لئے ممکن ہوا کیونکہ حکومت نے کسانوں کو ان کا حق دلوایا اور انہیں کسان کارڈ کی سہولت دی، شوگر ملوں سے ان کے پیسوں کی ادائیگی کرائی، اس سے قبل کسان لائنوں میں لگے رہتے تھے لیکن انہیں پیسے نہیں ملتے تھے، ہم نے گنے کی فصل کی پوری قیمت دلوائی، حکومتی پالیسیوں کی بدولت کسانوں کے پاس 1100 ارب روپے زیادہ گئے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زمینوں اور فصلوں پر زیادہ پیسے خرچ کئے جس کی بدولت ریکارڈ ممکن ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، بڑی کمپنیوں نے 930 ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا، نجی شعبہ نے 1400 ارب روپے کے قرضے لئے جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، ٹریکٹرز کی فروخت میں 20 فیصد، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں 81 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل کے شعبہ نے بھی ترقی کی، تیل کی کھپت سب سے زیادہ رہی، تعمیرات کے شعبہ میں 1500 ارب روپے گئے جس سے روزگار کے مواقع بڑھے، پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 23.2 ارب ڈالر ہیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ تیل کی قیمتیں جو دنیا میں اوپر چلی گئی ہیں یہ کم ہوں گی لیکن یوکرین میں جو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ قیمتیں کم نہیں ہوں گی، گندم کی قیمت بھی اوپر جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن تنقید کرتی ہے لیکن وہ بتائے کہ اس کے پاس مسائل کا کیا حل ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آج بھی دنیا کے مقابلہ میں پاکستان میں کم ہیں، پاکستان 90 ملکوں میں 25ویں نمبر پر ہے جہاں پٹرول کی قیمت سب سے کم ہے، پٹرول ترکی میں 200 روپے، بھارت میں 260 روپے، بنگلہ دیش میں 185 روپے فی لٹر ہے، اگر ہم ہر ماہ 70 ارب روپے کی سبسڈی نہ دیں تو پٹرول کی قیمت 200 روپے لٹر ہو، اوگرا نے مجھے سمری بھیجی کی کہ پٹرول 10 روپے بڑھانا پڑے گا لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پٹرول 10 روپے بڑھانے کی بجائے 10 روپے کم کیا جائے، ہم اپنے لوگوں کو ریلیف دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سستی بجلی ڈیموں سے پیدا ہوتی ہے لیکن 50 سالوں میں ڈیم نہیں بنائے گئے، اگر ماضی کی حکومتیں ڈیم بنانے پر توجہ دیتیں تو عوام کو سستی بجلی فراہم ہوتی، ہم آئندہ پانچ سے 10 سالوں کے دوران 10 ڈیم بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے بجلی کی قیمت میں بھی 5 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 95 فیصد لوگوں کے بجلی کے بلوں میں 20 سے 50 فیصد کمی ہو گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے 80 لاکھ خاندانوں کیلئے احساس پروگرام کے تحت امدادی رقم کو 12 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کر دی ہے، گریجویٹس کو 30 ہزار روپے ماہانہ کی انٹرن شپ دلائیں گے، حکومت نے 26 لاکھ سکالرشپس دیئے ہیں اور اس کیلئے 38 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، پی ایم پورٹل کے ذریعے اس کیلئے شفاف نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں 100 فیصد چھوٹ دی گئی ہے، فارن ایکسچینج پر 100 فیصد چھوٹ دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی سٹارٹ اپس کیلئے 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس ختم کر دیا ہے، جو بھی انڈسٹری لگائے گا اس سے سوال نہیں پوچھا جائے گا، کل لاہور میں انڈسٹریل پالیسی کے پیکیج کا اعلان کروں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز جو بھی سرمایہ کاری کریں گے یا جوائنٹ وینچر کے تحت کام کریں گے انہیں پانچ سال تک ٹیکسوں سے چھوٹ ہو گی، نوجوانوں اور کسانوں کو بلاسود قرضے دیں گے، غریبوں کو گھر بنانے کیلئے سستے قرضے دیئے جائیں گے، کسانوں، کاروبار اور گھروں کی تعمیر کیلئے دو سال کیلئے 407 ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بینکوں کو بڑی مشکل سے عام آدمی کو قرضے دینے پر آمادہ کیا، پہلے بینک تنخواہ دار اور کمزور طبقے کو قرضے نہیں دیتے تھے، حکومت نے ان کیلئے آسانیاں پیدا کیں اور سبسڈائزڈ قرضے شروع کئے، کم آمدنی والے طبقات کیلئے بینک 150 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے چکے ہیں جبکہ 50 ارب روپے کے قرضے اب تک دیئے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت انشورنس کارڈ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، یہ غریب گھرانوں کیلئے بالخصوص بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ غریب گھرانوں میں جب کوئی بیماری ہوتی تھی تو وہ علاج کرانے سے قاصر ہوتے تھے، چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسز نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے لوگ بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا رخ کرتے تھے، صحت کارڈ جیسی سہولت ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے، پنجاب میں مارچ کے آخر تک ہر گھرانے کے پاس صحت کارڈ کی سہولت ہو گی جس کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال سے کرایا جا سکے گا، اس سے پورا صحت کا ایک نظام وجود میں آئے گا اور دیہات میں بھی ہسپتالوں کا جال بچھ جائے گا، غریب سے غریب گھرانہ بھی پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کی سہولت حاصل کر سکے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران ایک مشکل سے نکلتی تھی تو دوسری مشکل آ جاتی تھی لیکن سارا وقت میں اور میری حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک اور معیشت اب صحیح راستے پر چل پڑے ہیں، بلومبرگ اور آئی ایم ایف کی رپورٹیں میری اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان اب مشکل وقت سے نکل کر صحیح راستے پر چل پڑا ہے۔











