سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات  کا اجلاس،وزیراعظم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتےہیں، میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتے،۔پیکا کے حوالے سے مشاورت ضرور ہونی چاہئے،  چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید

16

اسلام آباد۔14مارچ  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہاہے کہ وزیراعظم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں، میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتے۔ وزیراعظم آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں۔پیکا کے حوالے سے مشاورت ضرور ہونی چاہئے۔ہم چاہتے ہیں کہ پیکا کے حوالے سے میڈیا کو سنا جائے اوراگر پیکا کے حوالے سے میڈیا کیاچھی  تجاویز  آتی ہیں تو ان کو لازمی شامل کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پیکا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت میں ابھی تک پیکا کے حوالے سے بات نہیں ہوئی ہے۔پیکا کا معاملہ زیادہ تر آئی ٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج کمیٹی کے اجلاس میں آنے سے معذرت کی ہے۔ پیکا کے حوالے سے میڈیا کے کچھ خدشات ہیں۔اس حوالے سے کمیٹی بنائی ہے ۔ تمام فریقین کے تحفظات  سنے جانے چاہئیں ۔اگلی میٹنگ میں آئی ٹی اور وزارت قانون کو بھی بلا لیتے ہیں تاکہ پیکا کے حوالے سے ان کو بھی سنا جائے۔ پیکا پر مشاورت لازمی ہونی چاہئے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اچھی روایت ہے کہ اہم معاملات پر تمام فریقین کو سنا جائے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جعلی خبروں کا سدباب لازمی ہونا چاہئے، جعلی خبروں کا سدباب کیسے کرنا چاہئے اس پر اتفاق پیدا کرنے کی ضروری ہے۔فیک نیوز اہم مسئلہ ہے اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل ہونا چاہئے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ غلط خبریں چلا کر لوگوں کی پگڑیاں نہیں اچھالنی چاہئے۔قائمہ کمیٹی میں وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پہلے وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ ہوا کرتا تھا اب نہیں ہوتا۔ چیئرمین کمیٹی نے 2018 سے اب تک وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم ہائوس کا پریس سیکشن ہوتا ہے ان کو درخواست کریں گے، وہ وزیراعظم کی تقاریر کے حوالے سے مواد ہمیں مہیا کریں گے تو مجموعہ بنا کر کمیٹی میں پیش کردیں گے۔وزارت اطلاعات کی پی ایس ڈی پی کیلئے بجٹ تجاویز پر بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2021-2022 کیلئے 15 پی ایس ڈی پی کے منصوبے ہیں جس کیلئے 1899.530 ملین روپے مختص ہیں۔15 منصوبوں میں 11 پروجیکٹس جون 2022 تک مکمل ہو جائیں گے۔باقی 4 منصوبوں میں پی بی سی کی 3 اور پی ٹی وی سی کا ایک فارن فنڈڈ منصوبہ شامل ہے، یہ چار باقی منصوبے اگلے پی ایس ڈی پی 2022-2023 میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت اطلاعات کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد فیصلے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ژوب بلوچستان میں ریڈیو ٹرانسمیٹرکی بحالی،ژوب ریڈیو اسٹیشن سے کلاس فور ملازمین کے تبادلوں اور ریڈیو اسٹیشن ژوب کی زمین پر قبضے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 22 ایکڑ ژوب ریڈیو کی زمین ہے وہاں کا ٹرانسمیٹر خراب ہو چکا ہے۔ٹرانسمیٹر کو بدلنے کے بجائے زمین پر قبضہ کرلیا جس پر پی بی سی حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 1998 میں یہ ٹرانسمیٹر لگایا گیا اور 2014 میں مدت پوری ہونے اور اینالاگ ہونے کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ 2015 میں ڈی آئی خان میں 100 کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر لگایا گیا جس کی نشریات ژوب تک جاتی ہیں۔ژوب کی زمین کسی اور کے حوالے  کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی زیر قبضہ ہے۔ژوب کا ریڈیو اسٹیشن بند ہونے کی وجہ سے وہاں کام نہیں تھا جس کی وجہ سے وہاں کے اسٹاف کو قریب تعین اسٹیشنز میں بھیجا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں ژوب ریڈیو اسٹیشن میں تمام عملے کی تفصیلات طلب کرلیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر عرفان  صدیقی، مولا بخش چانڈیو، نسیمہ احسان، محمد طاہر بزنجو، انورلعل دین نے شرکت کی جبکہ سینیٹر کامران مرتضیٰ بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے۔اس موقع پر سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد ،مینجنگ ڈائریکٹراے پی پی مبشر حسن اور وزارت کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔