وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ، مراسلہ پر گہری تشویش کا اظہار،  غیر ملکی عہدیدار کی طرف سے استعمال کی گئی زبان غیر سفارتی قرار ،  پاکستان کے داخلی امورمیں کھلی مداخلت کے مترادف مراسلہ کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے، قومی سلامتی کمیٹی

21

اسلام آباد۔31مارچ  (اے پی پی):قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ پر گہری تشویش کا اظہار اور غیر ملکی عہدیدار کی طرف سے استعمال کی گئی زبان کو غیر سفارتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مراسلہ پاکستان کے داخلی امورمیں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے، اس پرباقاعدہ سفارتی  ذرائع سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔  وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 37واں اجلاس جمعرات کو وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا ءبرائے دفاع، توانائی، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس ، قومی سلامتی  کے مشیر اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم  آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جای اعلامیہ کے مطابق  قومی سلامتی مشیر نے کمیٹی کو ایک بیرونی ملک  کے سینئر عہدیدار کے اس ملک میں ایک باضابطہ اجلاس میں پاکستان کے سفیر کو باضابطہ مراسلے کے بارے میں آگاہ کیا جس سے سفیر نے وزارت خارجہ امور کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا۔ کمیٹی نے مراسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی طرف سے استعمال کی گئی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا۔ کمیٹی نے منتج  کیا کہ یہ مراسلہ مذکورہ ملک کی طرف سے پاکستان کے داخلی امورمیں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان سفارتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے باضابطہ ذریعے سے اسلام آباد میں اور اس ملک کے دارالحکومت میں سخت احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔ شرکا نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی ان کیمرہ بریفنگ کے ذریعے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کیلئے 30 مارچ 2022 کو وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہونے والے خصوصی کابینہ اجلاس میں کابینہ کے کئے گئے فیصلے کی توثیق کی۔