اسلام آباد،31مئی (اے پی پی):سابق وزیر اعظم و سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے طلباء کو نہ صرف تمباکو کے استعمال سے روکا جاسکے گا بلکہ حکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا، ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی اضافی رقم کو تعلیم کے شعبے میں خرچ کیا جا سکتا ہے، تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائوں گا۔
انھوں نے یہ بات منگل کو یہاں غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام “ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے” کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار میں جڑواں شہروں کے مختلف کالجوں کے طلباء کی کثیر تعداد شریک تھی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے موجودہ اعدادوشمار سے پریشان کن ہیں۔
سابق وزیر اعظم و سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد کے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی چاہئے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بحث کی جائے گی اور اس مسئلے کو قومی سطح پہ اجاگر کیا جائے گا تاکہ تمباکو کے استعمال کو روکنے کیلئے مضبوط قانون سازی کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس سماجی مقصد کیلئے طلباء کی فعال شرکت کو دیکھ کر مجھے فخر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صحیح ہاتھوں میں ہے ۔
کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق محمود خان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں، بچوں کو تمباکو کی لعنت سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانے سے نہ صرف تمباکو کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو تمباکو سے دور رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے اور چونکہ بجٹ قریب ہے، یہ مناسب وقت ہے کہ تمباکو پر کم از کم 30 فیصد ٹیکس بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمباکو کے استعمال کے خطرات اور تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے اور لوگوں کی بہترین صحت کے حق کے تحفظ کے عہد کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کیلئے کرومیٹک ٹرسٹ نے سی ٹی کے ایف اور پارٹنر تنظیموں کے ساتھ مل کر اینٹی ٹوبیکو کلبز بنائے ہیں تاکہ تمباکو کنٹرول پر گفتگو میں طلباء کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔انھوں نے کہا کہ ان کلبوں کے ذریعے طلباء تمباکو کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں گے، نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنے کیلئے عوام کو حساس بنائیں گے اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے کی وکالت کریں گے۔
سی ٹی ایف کے کےنمائندہ ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے تمباکو کو کم قابل رسائی بنانے کیلئے پالیسی میں تبدیلی اور زیادہ ٹیکس لگانے جیسے اقدامات کا استعمال کرکے آنے والی نسلوں کو تمباکو سے پاک بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ملک میں روزانہ اوسطاً 5 ہزار افراد ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہر سال 1لاکھ سے زیادہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اگر تمباکو کا استعمال موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2030 تک اس تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، ایسی صورتحال پاکستان کو پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو حاصل کرنے سے روک دے گی جس کا مقصد 2030 تک تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی اموات کو ایک تہائی تک کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد تمباکو کلب ہمارے نوجوانوں کی حقیقی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ان کا مقصد ہے۔
مسلم لیگ ن کی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور ماہر قانون آمنہ شیخ نے طلباء سے خطاب میں کہا کہ تمباکو کی اس لعنت کو روکنے میں حصہ لینا ہماری سماجی ذمہ داری ہے، ہر جلتے ہوئے سگریٹ سے ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں، اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے نوجوانوں کی قوت خرید سے باہر کیا جا سکے۔
سابق ٹیکنیکل ہیڈ آف ٹوبیکو کنٹرول سیل ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی اور حکومت کی آمدنی کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مضبوط قانون سازی کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کے نوجوان تمباکو سے پاک ہوجائیں گے۔











