فیصل آباد، 10 جون (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے وفاقی بجٹ 2022-23 کو مشکل حالات کے باوجود انتہائی متوازن اور جامع قرار دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس سے قومی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ پسے ہوئے طبقوں کو بھی ریلیف مہیا کیا جا سکے گا۔
وہ جمعہ کی شام فیصل آباد چیمبر میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی قومی اسمبلی سے بجٹ تقریر براہ راست پروجیکٹر سکرین پر دیکھنے اورسننے کے بعد اے پی پی سے بات چیت میں اپنے فوری ردعمل کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک جس نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اس سے نکلنے کی تمام تر ذمہ داری صرف حکومت پر ڈالنے کا رویہ درست نہیں اور اس سلسلہ میں ہر طبقہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے رضاکارانہ طور پر اپنے اخراجات کم کرنے کا عزم باعث تحسین ہے جبکہ صنعتکاروں اور بزنس کمیونٹی پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستانی بنیں اور پاکستانی مصنوعات خریدیں کی پالیسیکا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے مہنگے درآمدی سامان تعیش کا کم سے کم استعمال کریں۔
عاطف منیر شیخ نے کہا کہ حکومت نے غریب، پسماندہ اور مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے طبقوں کیلئے ریلیف کا بروقت اعلان کیا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں بزنس کمیونٹی بھی اپنے حصے کا دیا ضرور جلائے گی۔ انہوں نے متوازن اور جامع بجٹ پیش کرنے پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس وقت ملک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دور سے گزر رہا ہے تاہم حکومت نے بجٹ میں جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اس سے لوڈ شیڈنگ کا جلد خاتمہ ہوسکے گا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے رضاکارانہ طور پر اپنے اخراجات کم کرنے، چینی اور آٹا جیسی بنیادی اشیا پر سبسڈی دینے، فنانسنگ میں خواتین کیلئے 25فیصد کا کوٹہ مختص کرنے، 40ارب روپے کے ڈی ایل ٹی ایل کے ری فنڈ اور فارما سوٹیکل کے شعبہ کو سیل ٹیکس کے ری فنڈ کی فوری ادائیگی اور ڈسٹری بیوشن کی سطح پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو کم کرنے جیسے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ملک میں 4نالج پارک بنانے کا اعلان قابل تحسین ہے تاہم ہمیں یقین ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک پارک ایم تھری اور علامہ اقبال سپیشل اکنامک زون میں قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور نوجوانوں کیلئے معقول رقم مختص کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس بجٹ سے پاکستان میں ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گا جبکہ بزنس مین اور صنعتکار بھی برآمدات بڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ بجٹ میں 1000بلین کے اضافی ٹیکسوں کی وصولی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر عاطف منیر شیخ نے کہا کہ فنانس منسٹری نے یقین دلایا ہے کہ موجودہ ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور یہ ٹیکس نان فائلرز اور ان شعبوں سے وصول کیا جائے گا جو پہلے ٹیکس نیٹ میں نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں نان فائلر پر ٹیکسوں کی شرح میں بھی مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں آنے پر مجبورا کیا جا سکے۔ تاجروں پر ٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انجمن تاجراں نے اس سلسلہ میں واضح کر دیا ہے کہ وہ فکس ٹیکس رجیم میں آنا چاہتے ہیں جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔ پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین میاں کاشف ضیا نے بھی بجٹ پر اطمینان کا اظہار کیااور کہا کہ خصوصی اقدامات سے برآمدات بڑھانے کی راہ ہموار ہو گی۔











