اسلام آباد،16جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میرے دور میں میڈیا سب سے زیادہ آزاد تھا، میڈیا پر کوئی پابندی اور سینسر شپ نہیں تھی، رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی رپورٹ ہے کہ عمران خان کے دور میں میڈیا پر قدغنیں لگیں، عمران خان کے دور میں میڈیا اداروں پر پابندیاں لگائی گئیں، چینلز کو بند کیا گیا، یہاں رپورٹرز کی زندگیوں کو خطرات تھے، عمران خان صحافیوں کو دھمکاتے تھے کہ اگر ان کے خلاف کوئی خبر شائع کی تو صحافی کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سی پی این کی فروری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور میں 10 صحافی قتل ہوئے اور متعدد گرفتار ہوئے، صحافیوں کو سینسر شپ کے ذریعے ڈیتھ تھریٹ دے کر ملک میں چار سال سینسر شپ کی گئی، جو صحافی بات نہیں مانتا تھا اسے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں میر شکیل الرحمان کو نیب کی حراست میں رکھ کر باقی چینلز کو پیغام دیا گیا کہ اگر ہم ان کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں تو آپ کس باغ کی مولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر ان کو پسند نہیں آئے تو انہیں آف ایئر کر دیا گیا، ابصار عالم کو ان کے گھر کے قریب پیٹ میں گولیاں ماری گئیں، مطیع اللہ جان کو اپنی بیٹی کے سکول کے باہر سے اغواء کیا گیا، اسد طور کے گھر میں گھس کر بازو توڑے گئے، خواتین صحافیوں پر تابڑ توڑ حملے کئے گئے، سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہمات چلائی گئیں، غریدہ فاروقی کے بارے میں سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، محسن بیگ نے جب ان کی کرپشن پر آواز بلند کی تو ان کی ناک کی ہڈی توڑی گئی، سب سے پہلے طلعت حسین عمران خان کی آمرانہ سوچ کا شکار ہوئے، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور امبر شمسی جیسی پروفیشنل صحافیوں کے خلاف انہوں نے سوشل میڈیا کمپینز چلائیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں صحافیوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو عمران خان کے کڑے دور میں ثابت قدم رہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اپنے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں پیسا، عمران خان کہتے ہیں کہ وہ آزادی اظہار رائے کے پیرو کار ہیں، انہیں ڈر نہیں لگتا جبکہ حقیقت میں عمران خان اتنے بزدل ہیں کہ انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کی آواز کو ٹی وی سکرین پر بند کیا، شہباز شریف جب کورٹ آتے تھے عمران خان انتظامیہ کو حکم دیتے کہ لائوڈ اسپیکر پر اتنا اونچا بولو کہ شہباز شریف کی آواز کوئی سن نہ سکے، عمران خان کے دور میں پی ایف یو جے نے احتجاج کیا اور خدا کا واسطہ دیا کہ ہماری زبانیں کھولی جائیں، ہمیں بولنے کا حق دیا جائے۔ عمران خان کے دور میں صحافتی تنظیموں کے احتجاج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔











