اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارہ پاکستان کونسل برائے قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز (پکرٹ) میں پی وی ماڈیولز اور متعلقہ آلات کے لیے پاک کوریا ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لیے سنگ بنیاد کی تقریب جمعہ کو یہاں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد میمن، ڈاکٹر عطاءالرحمٰن اور پاکستان میں کوریا کے سفیر سوہ سنگپیو اور کوریا کے ترقیاتی ادارہ کے پاکستان میں نمائندہ نے شرکت کی۔ منصوبہ 9.5 میلن ڈالر کی لاگت سے جولائی 2023 میں مکمل ہوگا، لیبارٹری دسمبر 2024 میں فعال ہوگی۔ پاکستان کونسل برائے قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عطاءالرحمٰن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مہنگے ذرائع سے توانائی حاصل کررہے ہیں تاہم اب حکومتی اور قومی سطح پر شمسی توانائی کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سولر اور ونڈ مہنگی توانائی کا متبادل ہے جو ماحول دوست بھی ہے، سولر ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام سے سولر پنلز کا معیار جانچا جاسکے گا۔ڈاکٹر عطاءالرحمٰن نے کہا کہ کوریا کے ترقیاتی ادارہ نے لیبارٹری کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے لیبارٹری کی تعمیر اور افرادی قوت کی تربیت پر کوریا کے ترقیاتی ادارہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب میں سولر پارکس قائم کئے جاسکتے ہیں۔ کوریا کے سفیر سوہ سنگپیو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں سولر پینلز کی ٹیسٹنگ میں مدد گار ثابت ہوگا اور اس سے سولر انڈسٹری کو بھی فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوریا شمسی توانائی کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت پاکستان کو زراعت سمیت مختلف منصوبوں میں معاونت کررہی ہے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 9.5 میلن ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوریا کا ترقیاتی ادارہ دیگر منصوبوں پر بھی کام کررہا ہے۔ شرکا ءکو بتایا گیا کہ پاکستان کونسل برائے قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کے تحت یہ منصوبہ جولائی 2023 میں مکمل ہوگا جس کے بعد لیبارٹری میں جدید آلات نصب کئے جائیں گے جبکہ افرادی قوت کی تربیت کے بعد یہ لیبارٹری دسمبر 2024 میں مکمل طور پر فعال ہوگی۔











