سانگھڑ، 21 اگست (اے پی پی): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں کے باعث سانگھڑ کے پورے ضلع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد 28 ارب روپے کی لاگت سے کھپرو سے ایل بی او ڈی کا ایک نیا سسٹم (سم نالہ) نصب کیا جائے گا جس سے کپرو سمیت پورے ضلع کے بارش کے پانی کو مستقل طور پر محفوظ طریقے سے نکالتے ہوئے لوگوں کو بارش سے بچایا جاسکتا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بارش سے متاثرہ افراد کو مرحلہ وار 25،25 ہزار روپے بھی فراہم کئے جائیں گے۔
یہ اعلان انہوں نے آج ضلع سانگھڑ کے مختلف ریلیف کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد ڈی سی دفتر میں افسران سے اجلاس اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پورے ضلع کو آفت زدہ قرار دے کر تمام ٹیکس معاف کر دیے جائیں گے جب کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جن افراد کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ان کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے ڈی سی کو ہدایت کی کہ بے گھر ہونے والے متاثرین کو کھانے کی بروقت فراہمی اور مویشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے سمیت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 86 ہزار خیمے تھے جو شمالی سندھ کے اضلاع میں تقسیم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید خیمے دستیاب نہیں، اس لیے ہم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے خیمے فراہم کرنے کا کہا ہے، وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں مدد کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈی سی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر نجی طور پر خیمے خرید لیے جائیں جن کی رقم سندھ حکومت ادا کرے گی جب کہ جلد ہی 42 ہزار خیمے سندھ حکومت کو مل جائیں گے جو مختلف اضلاع میں تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ شہری علاقوں کو ہر حال میں بچایا جائے اور پانی کی نکاسی کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ فصلوں، سڑکوں، مکانات کو پہنچنے والے نقصان کا بہتر انداز میں سروے کیا جائے جبکہ 6 ماہ میں انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی تباہ کاریوں کے بعد نئے منصوبے بناتے ہوئے منتخب نمائندوں سے مشاورت کی جائے۔
بعد ازاں ڈی سی آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں معمول سے 400 فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے، پانی کے اخراج کے لئے محفوظ مقامات نہیں مل رہیں اس لئے نکاسی میں تاخیر ہوئی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں سے پہلے تمام سم نالوں کی صفائی کر دی گئی، نارا کینال کا بہاؤ 2011 سے زیادہ ہے، تاہم اس کے بند مضبوط ہیں، کہیں بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر شازیہ عطا مری کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے تحت 15 لاکھ خاندانوں کو 25،25 ہزار روپے دیے جائیں گے اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں ہر یونین کونسل میں 60 فیصد آبادی کو رقم ملے گی۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمران الحسن خواجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع سانگھڑ 6 تعلقوں پر مشتمل ہے جس کی آبادی 21 لاکھ ہے، حالیہ بارش کے 2 اسپیل کے دوران ضلع میں 656 ملی میٹر بارش ہوئی جس کے دوران ایک ہزار 721 دیہات، 19 ہزار 752 مکانات تباہ ہوئے، مختلف تعلقون میں 11 اموات اور 14 افراد زخمی ہوئے، جب کہ 20 ہزار 236 خاندان اور ایک لاکھ ایک ہزار 181 افراد بے گھر ہو گئے۔ ضلع بھر میں 3 لاکھ 48 ہزار 405 ایکڑ رقبہ پر فصلیں کاشت کی گئیں جس میں سے 3 لاکھ 10 ہزار 39 ایکڑ فصل تباہ ہو چکی ہے۔ ضلع کی 164 کلومیٹر سڑکیں اور 317 کلو میٹر شولڈرز، 6 پل اور 99 نالے بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کر کے تمام اداروں کو فیلڈ میں رہنے کا پابند کیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں کی نگرانی کر رہی ہے اور وہاں خوراک، شیلٹر اور طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں ٹینٹ، راشن، پانی نکالنے کی مشینری اور دیگر سہولیات سمیت پیرومل، کنڈیاری سے کھپرو تک سم نالہ اور ٹیوب ویل سسٹم کی مرمت کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر سینیٹر قرۃالعین مری، صوبائی وزیر ناصر شاہ، مکیش کمار چاولہ، شبیر احمد بجارانی، ایم این اے نوید ڈیرو، صوبائی مشیر سردار پارس ڈیرو، سید ریاض حسین خراسانی، رسول بخش چانڈیو، ایم پی اے فراز ڈیرو، شاہد خان تھیم سمیت پی پی رہنما علی حسن ہنگورجو، رانا عبدالستار، جہانگیر جونیجو، معشوق چانڈیو، عمر گل ہنگورجو، راجیش کمار ہرسادانی، ڈویژنل کمشنر عبدالرشید زرداری، ڈی سی ڈاکٹر عمران الحسن خواجہ، ڈی آئی جی پیر محمد شاہ، ایس ایس پی ڈاکٹر فرخ علی، اے ڈی سی ون اعجاز احمد جتوئی اور ضلع کے تمام افسران بھی موجود تھے۔











