حیدرآباد،4 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیراطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ اور فوکل پرسن رین ایمرجنسی شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیہون اور بھان سعید آباد کو بچانے کیلئے منچھر جھیل پر کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اتوار کو یہاں راول ہاؤس ٹنڈو جام میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ منچھر جھیل پر اہم پیشرفت ہوئی ہے ،گزشتہ روز سے افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ منچھر گنجائش سے زیادہ بھرچکی ہے اور اوور فلو ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ دو ٹاﺅن سیہون اور بھان سعید آباد کو بچانا ہے اور ایریگیشن کے ماہرین نے کٹ لگانے کا فیصلہ کیا کیوں کہ صرف سہون کی آبادی تین لاکھ سے زائدہے، کٹ لگانے کے بعد پانچ یوسیز متاثر ہوں گی اور سارا پانی ان پانچ یوسیز میں جائے گا جس میں یوسی جعفرآباد، یوسی واہڑ، یوسی چنا، یوسی اراضی اور یو سی بوبک شامل ہیں۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کی نقل مکانی کروانے کے لئے اقدامات کرلئے ہیں جبکہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ خود بھی سیہون پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشکل فیصلہ کیا ہے اورسوا لاکھ کی آبادی متاثر ہوگی، صوبے میں ابتک مجموعی اموات 563 ہوچکی ہیں اور زخمی 22 ہزار سے زائد ہیں جبکہ ریلیف کیمپس میں 6 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا مجموعی طور پر اب تک ایک لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو ایک لاکھ 15 ہزار راشن بیگز کا آرڈر دیا ہے تاہم ہمیں اس وقت یوٹیلٹی اسٹور سے صرف 8 ہزار تک راشن بیگ ملے ہیں اور یہ یوٹیلٹی اسٹورز آرڈرپورا کرنے میں سستی روی کا شکار تھے اس لیے ہم نے پرائیویٹ وینڈرز کو آرڈر دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ جہاں نقصان پہنچا ہے وہاں ریلیف پر زیادہ توجہ ہے ، 23 اضلاع اس وقت پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم ہر ریلیف کیمپ میں ڈسپینسری بنارہے ہیں جبکہ ریلیف کیمپس میں حاملہ خواتین بھی ہیں انہیں ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام مخیر حضرات اور وفاقی وصوبائی اداروں کو اپنا بھرپور کردار کی ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ لوگ متاثرہ اضلاع سے نقل مکانی کرکے شہروں میں آرہے ہیں جبکہ منچھر جھیل سے متاثرہ سوا لاکھ آبادی بھی محفوظ مقامات پر منتقل ہوگی جہاں انہیں خیمہ بستیوں میں رہائش دی جائے گی اور انہیں وہاں خوراک ، علاج و معالجے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ریسکیو اور ریلیف ہے اور ان کے لیے وسائل درکار ہیں کیوں کہ حکومت پر دباﺅ زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال سے آگاہ کریں گے اور کہا کہ اگر کہیں کٹ لگا ہے تو اداروں کو اعتماد میں لیکر لگایا گیا جبکہ زیادہ آبادی کو بچانے کے لئے سخت فیصلے کیے گئے ہیں ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ منچھر میں کٹ لگانے کے نتیجے میں وزیراعلی سندھ کا اپنا گاﺅں اور گھر بھی ڈوبے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی قربانی دی اوراپنے گھر کی طرف پانی کا اخراج کروایا تاکہ زیادہ آبادی کو بچایا جاسکے ۔











