ملتان، 05 ستمبر ( اےپی پی): وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ امسال16فیصد زیادہ رقبہ پر کپاس کاشت ہوئی جس کی وجہ سے زیادہ پیداوار متوقع تھی لیکن بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 6فیصد فصل متاثر ہوئی ہے اس کے باوجود مقررہ ہدف کے حصول کیلئے بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں کپاس کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے پلان مرتب کیا جارہا ہے تاکہ سیلابی پانی اترتے ہی کاشتکاروں کو ربیع سیزن میں گندم کی کاشت کیلئے رہنمائی و مدد فراہم کی جاسکے۔ اس موقع پر شرکا کو بتایا گیا کہ بارشوں کے بعد کپاس کی فصل دوبارہ بھرپور پھل اٹھارہی ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینے بہت اہم ہیں اگر فصل پر لگنے والے پھل کی بہتر نگہداشت کرلی تو کپاس کی مجموعی پیداوار میں بہتری آئے گی۔ وزیر زراعت نے فیلڈ ٹیموں کو کاٹن ایڈوائزری ہر کاشتکار تک پہنچانے اور اس پر عملدرآمد کیلئے خصوصی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کاشتکار محکمانہ سفارشات پر عمل کریں تو بارشوں سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آئندہ سال معیاری کاٹن سیڈ کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ اداروں کو ابھی سے اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کے ضررساں کیڑوں کے حیاتیاتی کنٹرول کیلئے بائیولوجیکل لیبارٹریوں کو اپگریڈ کیا جارہا ہے۔قبل ازیں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے بارشوں اور سیلاب کے کپاس کی فصل پر اثرات بارے صوبائی وزیر زراعت کو آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ریوائز ٹارگٹ 4.88ملین گانٹھ کے مقابلے میں 5.5ملین گانٹھیں حاصل ہوجائیں گی۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں ابھی تک 29 فیصد زیادہ کپاس حاصل ہوئی ہے جس کی بڑی وجہ کپاس کی اگیتی کاشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع ملتان میں کپاس کی 145.64 فیصد زائد گانٹھیں حاصل ہوئی ہیں۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے 2 لاکھ 10 ہزار ایکڑ رقبہ پر کاشتہ کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو تقریباً,356 33 ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔











