لاہور،8ستمبر ( اے پی پی ):سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے جیلوں، کشتیوں، اینٹوں کے بھٹوں سمیت خاکروبوں اور قلیوں کے بچوں کیلئے غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں ، ایسے جگہوں پر جہاں رسمی تعلیمی ادارے موجود نہیں وہاں ایسے اداروں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے،پاکستان میں بالغ افراد میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے جس کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں محکمہ خواندگی و غیررسمی بنیادی تعلیم کے زیر اہتمام انٹرنیشنل لٹریسی ڈے کے موقع پر کیا۔تقریب کاانعقاد محکمہ لٹریسی،جائیکا اور یونیسف کے زیراہتمام کیاگیا۔ڈاکٹرثانیہ نشترنے محمد شریف طاہر کو سیش پہنا کر Literacy Ambassador نامزد کیااور”تعلیم پروگرام” کا افتتاح کیا اور محکمہ لٹریسی کے اساتذہ ،بیسٹ لرنرزاور آرٹ کمپیٹیشن میں طلبا وطالبات کو نمایاں کامیابی پر انعامات دیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرثانیہ نشتر نے کہا کہ غیررسمی تعلیم انتہائی اہم ہے کیونکہ بالغ بچوں کو تعلیم وتربیت کی فراہمی بھی ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے اس طرح کی تقریبات میں شامل ہو کر بہت خوشی ہوتی ہے کیونکہ انکا اعلیٰ مقصد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب ذدہ علاقوں کے دوروں کے دوران محسوس کیا کہ بہتر گورنس کے ساتھ خواندگی کی بہت ضرورت ہے ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح تسلی بخش نہیں ہے، تعلیم کی فراہمی کو احساس پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔
سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس پروگرام کو چلانے کیلئے ڈیجیٹائزیش کی مدد سے حکومتی اداروں کی صلاحیت بڑھائی گئی، ڈیجیٹائزیشن سے بد عنوان عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیم میں سرمایہ کاری کئے بغیر ترقی نہیں کی جا سکتی ،پاکستان جیسے ممالک میں غیر رسمی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پاکستان میں بالغ افراد میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے جس کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر رسمی تعلیمی اداروں کے قیام میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کروں گی، غیر رسمی اداروں میں تعلیم فراہم کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔
تقریب میں سیکرٹری خواندگی و غیررسمی بنیادٕی تعلیم وجیہہ اللہ کنڈی، سیکرٹری انفارمیشن راجہ منصور احمد، سیکرٹری سوشل ویلفیر وقاص علی محمود،سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سمیرا صمد،ایڈیشنل سیکرٹری بشیراحمد گورایہ ،نمائندہ سحررضا،جائییکا نمائندہ خالد سیف،چیف ایگزیکٹو جاٸیکا چی اوہاشی اورڈپٹی سیکرٹری عبد اللہ، تنویر حسین، موجود تھے۔











