چترال،10ستمبر(اے پی پی): پاکستان بھر میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی جہاں فلاحی ادارے مدد کر رہے ہیں وہیں کئی لوگ ذاتی حیثیت میں بھی سیلاب متاثرہ افراد کی مختلف طریقوں سے مدد کر رہے ہیں ۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والے ایک دینی مدرسے کے معلم مولانا محمد فاروق نے بھی چترال کے سیلاب متاثرین کے 90 گھرانوں کی مدد کی اور انہیں خصوصی ریلیف پیکچ دیا جس میں 45 پیکیج وادی گولین کے متاثرین میں تقسیم کی گئی اور بقیہ 45 پیکیج دیگر متاثرہ لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ ان امدادی سامان میں آشیائے خوردنوش، گرم کمبل، بسترے، اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والا سامان شامل ہے۔
اس موقع پرمولانا محمد فاروق نے کہا کہ چترال کے معروف سماجی کارکن مولانا فتح الرحمان نے ان کو ان متاثرین کی تصاویر اور ویڈیو کلپ بھجوائے تھے جنہیں دیکھ کر ان کو بہت دکھ ہوا اور فوری طور پر اپنے مدرسہ میں اعلان کرکے مدرسہ کے طلباء، ان کے والدین اور مہتدیوں پر مشتمل لوگوں نے اپنے بساط کے مطابق سامان اکٹھاکیا۔ جس میں گرم کپڑے اور جوتے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر علاقوں میں اگرچہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے مگر وہ لوگ پانی کم ہونے کے بعد اب چند ماہ میں اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے مگر چترال کا معاملہ کچھ اور ہے۔چترال میں اگلے مہینے برف باری شروع ہوگی اور یہاں سخت سردی پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے فی الحال ان لوگوں کیلئے گرم کپڑے، بسترے، کمبل اور کچن میں استعمال ہونے والا سامان اکھٹا کرکے لایا تاکہ ان کا چولہا جلتا رہے اور سردی سے بھی بچ سکے۔تاہم اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ ان لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ مہیا کی جائے تاکہ برف باری اور بارش کے دوران یہ لوگ ان خیموں میں زندگی گزار نے پر مجبور نا ہوں۔
اس موقع پر مولوی فتح الرحمان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ان متاثرین کیلئے فوری طور پر ان کے تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کا بندوبست کیا جائے اور اکثر جگہ گھروں کے اوپر سے پانی گزررہاہے تو ایسے جگہوں میں دوبارہ گھر تعمیر کرنا ممکن نہیں ہے ایسے لوگوں کیلئے کسی اور محفوظ جگہ میں قیام کا بندوبست کیا جائے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس وادی میں مختلف اداروں کی جانب سے حفاظتی دیوار اور بند بنانے پر ستر کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں مگر کام ناقص ہے اور اکثر حفاظتی دیواروں کا تو سرے سے بنیاد ہی نہیں ہے، بس زمین کے اوپر سے پتھر رکھ کر دیوار بنایا گیا ہے جس میں سے پتھر باہر نکل رہے ہیں۔
متاثرہ لوگوں نے مولوی محمد فاروق اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ان کو تنہاں نہیں چھوڑ ااور اپنے بساط کے مطابق ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ان میں امدادی سامان تقسیم کیا۔











