پی ٹی آئی کی قیادت تحمل اور تدبر سے کام لے، فائرنگ کے واقعہ کا ملزم گرفتار  اور  پنجاب حکومت کی تحویل میں ہے؛ قمر زمان کائرہ

11

اسلام آباد،4نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیرآباد میں سابق وزیراعظم کے لانگ مارچ پر ہونے والی فائرنگ کے واقعہ کا ملزم گرفتار ہے اور وہ پنجاب حکومت کی تحویل میں ہے، اس کی تحقیقات کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی وفاقی حکومت پر الزام تراشی افسوسناک ہے، اسد عمر پر پارٹی کی ذمہ داری ہے، ان کی جانب سے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کا نام لے کر انہیں اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، وہ یہ ثبوت قوم کے سامنے پیش کریں، میں وفاقی حکومت کو یہ تجویز دوں گا کہ عمران خان کی عیادت کیلئے وفد جائے، تحریک انصاف کے مطالبات پر بات چیت کیلئے تیار ہیں تاہم اس کیلئے کوئی شرائط عائد نہیں کی جانی چاہئیں، پیپلز پارٹی کی قیادت کو شہید کیا گیا تاہم ہم نے انتشار کا راستہ اختیار نہیں کیا، معاملات کو تحمل اور ٹھہرائو کے ساتھ دیکھنا چاہئے، جمہوریت ڈیڈ لاک کا نہیں بلکہ ڈائیلاگ کا نام ہے، ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور احتجاج کے حق میں ہیں۔

 جمعہ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں چوہدری منظور اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وزیر آباد میں گذشتہ روز افسوسناک واقعہ پیش آیا، پوری قوم اس حملہ پر افسردہ تھی تاہم اﷲ کا شکر ہے کہ عمران خان محفوظ رہے، اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہری کے لواحقین سے بھی اظہار ہمدردی کرتے ہیں، سابق وزیراعظم کے قافلہ پر حملہ کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے، ہماری قیادت، حکومت، وزیراعظم، چیئرمین بلاول بھٹو سمیت پوری قیادت نے اس واقعہ کی مذمت اور اس پر افسوس کا اظہار کیا، اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، وفاقی حکومت نے بار بار یہ پیشکش کی ہے کہ اس معاملہ کی شفاف تحقیقات کیلئے جس سطح کا تعاون چاہئے ہو گا ہم کریں گے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اس واقعہ کی ایسی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ تمام شکوک دور ہوں اور حقائق سامنے آئیں، اس حادثہ کی اہم بات واقعہ میں ملوث ملزم کی گرفتاری اور اس کی فوٹیج سامنے آنا ہے، اس کو پولیس نے مشتعل افراد سے بچا لیا، لوگ اس وقت غصے میں تھے، ہمیں امید ہے کہ بہت سے ذمہ دار پولیس اہلکار اس سے تحقیقات کر رہے ہوں گے، گذشتہ روز گرفتار حملہ آور کی دو ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں جس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

 قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ ہماری روایت رہی ہے کہ ایسے واقعات کے بعد بے گناہ لوگوں کو مقدمات میں ملوث کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا کوئی منطقی انجام نہیں ہوتا، اس حملہ کے فوری بعد میں نے یہ تجویز دی کہ ہمیں عمران خان کی عیادت کیلئے جانا چاہئے، ان سے ہمدردی کرنی چاہئے، ہمارے اختلافات ذاتی نہیں بلکہ سیاسی ہیں اور ہمیں ان کو پروان نہیں چڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ کچھ عرصہ سے ملک میں سیاسی چپقلش پروان چڑھی، احتجاج ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے، اگر اس کیلئے انتظامیہ سے طے کرکے کوئی جگہ مختص کرکے وہاں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جائے تو یہ بہتر ہوتا تاہم ماضی میں عدالتوں میں یقین دہانیوں کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی گئی، کل کے واقعہ کے فوری بعد الزام تراشی اور حکومت کو موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیا گیا، اسد عمر کی جانب سے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کا نام لے کر یہ کہا گیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں۔

 قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ واقعہ پنجاب کی حدود میں وقوع پذیر ہوا، وہاں پر جلوس کی حفاظت پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی، جلوس کے ساتھ پنجاب پولیس اور کے پی کے پولیس کے علاوہ ان کی ذاتی سکیورٹی بھی تھی جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ پولیس اہلکاران بھی تعینات تھے، وفاقی حکومت کی جانب سے جتنی سکیورٹی سابق وزیراعظم کے طور پر عمران خان کو دی گئی ہے اتنی کسی سابق وزیراعظم کو نہیں دی گئی ، پنجاب میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کی اپنی حکومت ہے، یہ واقعہ اس کی حدود میں ہوا، حملہ آور گرفتار ہو چکا ہے، بجائے اس کے کہ تحقیقات تک صبر کر لیا جاتا وفاقی حکومت کا اس تحقیقات میں کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان جس کنٹینر پر سوار تھے وہ بلٹ پروف ہونا چاہئے تھا، اگر ایسا ہوتا تو آج یہ سب محفوظ ہوتے، زیادہ تر لوگ ٹانگوں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔

 قمر زمان کائرہ نے کہا کہ واقعہ پنجاب میں ہوا اور وفاقی حکومت سے استعفیٰ طلب کیا جا رہا ہے، پنجاب حکومت ان کی حفاظت میں ناکام رہی، اس میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں، انتظامی کمزوری کا براہ راست الزام وفاقی حکومت پر لگایا جا رہا ہے کہ ان کی ایماء پر یہ واقعہ ہوا جن کی حدود نہیں سکیورٹی سے ان کا لینا دینا نہیں، ان پر الزام لگایا گیا تو اسد عمر کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں تو ان کے ٹھوس شواہد ہوں گے، قیاس آرائیوں پر بات نہیں ہو گی، اسد عمر کے پاس جو ثبوت ہیں وہ قوم کے سامنے رکھیں اور تحقیق کاروں کو فراہم کریں، ہم ایسے واقعات کا شکار رہے، ہمیں اس کا احساس ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو ہم  یہ زخم سینے میں چھپا کر سب کو ساتھ لے کر چلے، ایسے واقعات کے بعد لوگوں کو مشتعل ہونے سے روکنے کیلئے ان کا کنٹرول کرنا سیاسی زعماء کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ہم نے ایسا کرکے دکھایا، بے نظیر بھٹو جب شہید ہوئیں تو اس وقت سوات اور دیگر علاقوں میں پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جا رہا تھا، اس وقت آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا جس سے یہ معاملہ کنٹرول ہوا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جس طرح ارشد شریف کے قتل اور گذشتہ روز کے واقعہ کے بعد الزام تراشی ہو رہی ہے آج بھی مراد سعید یہ الزام لگا رہے تھے کہ ان کے پاس سارے ثبوت ہیں تو وہ یہ ثبوت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کے بعد وفاق کی جانب سے جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی گئی تاکہ ایسا نہ ہو کہ حملہ آور سے مرضی کا بیان دلوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے واقعہ پر بھی کمیشن بنایا گیا، گذشتہ روز کے حملہ میں حملہ آور گرفتار ہے اور 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ابتدائی تحقیقات سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا، انہیں چاہئے کہ وہ حقائق قوم کے سامنے لائیں، مبہم گفتگو کرکے الزام تراشی کی جا رہی ہے وہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہوں، اس کی جے آئی ٹی بنے، وفاقی حکومت مکمل تعاون کرے گی، عمران خان اگر احتجاج کرتے ہیں تو کریں تاہم قانون ہاتھ میں لینے کی کوئی کوشش نہ کرے، آج جو توڑ پھوڑ ہو رہی ہے وہ اسی کا شاخسانہ ہے، ملزم پکڑا گیا ہے اس کی تحقیقات کا انتظار کیا جائے، لیڈر عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے روکتے ہیں، گذشتہ روز وزیرآباد میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے لوگوں کو اشتعال دلایا، آگ لگتی ہے تو پھر بستیاں جلتی ہیں، آج پاکستان میں عدم برداشت کی جو کیفیت ہے یہ اسی کا شاخسانہ ہے، آج کوئی ادارہ اور فرد محفوظ نہیں، جمہوریت ڈیڈ لاک کا نام نہیں  بلکہ ڈائیلاگ کا نام ہے، تلخ ماحول کے جواب میں تلخی آئے گی۔

 قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہماری طرف سے بھی اس پر صبر و تحمل کا مظاہرہ ہونا چاہئے، پی ٹی آئی کی قیادت تحمل اور تدبر سے کام لے، ان کے مطالبات پر مذاکرات کا راستہ کھلا ہے لیکن شرائط کے ساتھ گفتگو نہیں ہو سکتی، اس سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، ہم مزید خرابیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہئے، ہم بھارت سے غیر مشروط بات چیت کی بات کرتے ہیں تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ اپنے ملک میں غیر مشروط بات چیت نہ کریں۔

چوہدری منظور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے کارکن تک ہر ایک نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے، پیپلز پارٹی حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعہ کے حقائق قوم کے سامنے لائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے تلخی کم کرنی ہے اس ملک کو بچانا ہے، یہ ملک بڑے مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو جانور کہنے، ان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد اب ان پر براہ راست حملے شروع کر دیئے گئے ہیں، ان پر براہ راست حملے نہیں کرتے، افغانستان اور عراق میں فوج ختم ہوئی تو ساری دنیا مل کر بھی وہاں فوج کھڑی نہیں کر سکی، ہم نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہئے، ماضی کی غلطیوں کے ازالہ کیلئے ہمیں ان کی سپورٹ کرنی چاہئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حالات خراب ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو ہم بھی ان کی حکومتوں کے خلاف مارچ کرتے، ہم بھی مجمع اکٹھا کر سکتے ہیں۔