الیکشن کمیشن آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے؛ صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شمشاد خان

13

پشاور،7دسمبر  (اے پی پی):صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شمشاد خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے، نوجوانوں کی انتخابی عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں ۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ایک مقامی ہوٹل میں قومی ووٹرز ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے دوران کیا۔ تقریب میں مہمان خصوصی چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر شہزاد بنگش ،   صوبائی الیکشن کمیشن کے حکام، کے پی حکومت، سول سوسائٹی اور طلبا کی بڑی تعداد سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل  پولیس (آئی جی پی)معظم جاہ انصاری، کمشنر پشاور ریاض خان محسود اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)پشاور شفیع اللہ خان نے بھی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر (پی ای سی)خیبر پختونخوا شمشاد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے، جس کے فرائض منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔پاکستان کے آئین کے تحت، ای سی پی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کو منصفانہ انداز میں کرانے اور زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو اس جمہوری عمل میں حصہ لینے کے قابل بنانے کے لیے ایسے اقدامات کرے۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 ء  کے عام انتخابات میں پولنگ کا تناسب تقریبا 44 فیصد تھا جس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ  لوگوں کی بڑی تعداد ووٹرز رجسٹریشن اور ووٹ کے حق کی اہمیت سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ اس سے گریز کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن 2016 ء سے ہر سال 7 دسمبر کو انتخابی عمل کی اہمیت اور ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مناتا ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ 7 اکتوبر 2022 ء کو جاری ہونے والی حتمی انتخابی فہرستوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل ووٹرز کی تعداد 2,08,21301 ہے، جن میں سے 1,14,36241 مرد جبکہ 9385060 خواتین ووٹرز ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں کے مقابلے 20,51,181 کم ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس بڑے خلا کو پر کرنے یا کم از کم اسے کم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن میں نوجوانوں کی انتخابی عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز کا انعقاد شروع کر دیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ امان، چیئرپرسن، شعبہ سیاسیات، یونیورسٹی آف پشاور نے جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ جمہوریت کی سب سے آسان شکل ہے جو ووٹروں کو حکومت سازی میں براہ راست حصہ دار بناتی ہے اور اسے قانونی حیثیت بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور الیکشن کا آپس میں گہرا رشتہ ہے لیکن ہمارے ملک میں اس انتخابی عمل میں عوام کی شرکت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002 کے عام انتخابات کے مقابلے میں 2013 میں پولنگ کے تناسب میں کچھ بہتری آئی جو 50 فیصد رہی۔ لیکن، انتخابات 2018 میں یہ کم ہو کر 44 فیصد رہ گیا جبکہ کچھ حلقوں کے حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ 20 فیصد پر بھی رجسٹر ہوا۔انہوں نے یہ جاننے کے لیے تحقیق کی ضرورت پر زور دیا کہ لوگ اپنے ووٹ ڈالنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔

 انہوں نے انتخابی عمل میں خواتین کی کم شرکت پر بھی بات کی اور ووٹرز کے تناسب میں اضافے کے عوامل کی نشاندہی کے لیے شواہد پر مبنی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم، انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس مقصد کے لیے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔