عالمی ادارہ برائے زرعی ترقی کے تعاون سے بلوچستان  میں 40 ملین یورو کی لاگت سے آبی وسائل، لائیو اسٹاک اور زراعت کی ترقی کا جامع منصوبہ شروع کیا جاررہا ہے؛ وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ

31

کوئٹہ،17 دسمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ برائے زرعی ترقی کے تعاون سے بلوچستان کے 18 اضلاع میں 40 ملین یورو کی لاگت سے آبی وسائل، لائیو اسٹاک اور زراعت کی ترقی کا جامع منصوبہ شروع کیا جاررہا ہے، منصوبے کے تحت توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے 30 ہزار ٹیوب ویل مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کئے جائیں گے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے سبسڈی کی مد میں دئیے جانے والے سالانہ 22 ارب کی بچت ہوگی اور یہ وسائل تعلیم صحت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جاسکیں گے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی ادارہ برائے ترقی زراعت ایف اے او کے تعاون سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، محکمہ زراعت اور بلوچستان کے زمینداروں نے بھی شرکت کی۔

 وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں صنعتیں اور کارخانے نہ ہونے کے باعث مقامی لوگوں کی اکثریت زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہے، بلوچستان میں ناکافی برقی ضروریات کی وجہ سے زرعی شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے اور زمیندار اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ لوگ غربت اور کسمپرسی کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ  1999 کی خشک سالی کے باعث مال مویشیوں کی ایک بڑی تعداد مرگئی، اس نقصانات کے معاشی  اثرات ابتک برقرار ہیں، دوسری جانب بلوچستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے باعث قیمتی پانی ضائع ہو جاتا ہے اور سیلاب کی صورت میں نقصانات کا باعث بنتا ہے، پانی کے اس ضیاع کو روکنے کے لئے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی بلوچستان اس متعلق پرپوزل بنائے تاکہ ڈیمز کی تعمیر کے لئے قابل عمل اقدامات اٹھائے جاسکیں ، حکومت کا شراکت دار ہونے کی حیثیت سے  بلوچستان نیشنل پارٹی نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ بلوچستان کے مکران ڈویژن کو نیشنل گریڈ اسٹیشن سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ریچارج، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے اس منصوبے کو بلوچستان کے تمام اضلاع تک وسعت دی جائے گی جبکہ وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ورلڈ بنک کے تعاون سے بلوچستان کی ترقی کے مواقعوں کو بروئے کار لانے کے لیے ڈونر کانفرنس کا انعقاد بھی کرے گی۔

 وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں برقی ٹرانسمشن لائنیں پرانی ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہوچکی ہیں جنکی تبدیلی کے لئے معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے روز اول سے بلوچستان کے زمینداروں کو درپیش مسائل پر ٹھوس موقف اختیار کیا ہے، ہماری جماعت بلوچستان کے تمام طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔