کراچی،8دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار تسنیم احمد قریشی نے کہاہے کہ غیر فعال پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم)کو آئندہ چھ ماہ میں آپریشنل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) میں متعلقہ افسران سے غیر فعال پی ایس ایم کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ لینے کے بعد جمعرات کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ قومی اثاثے پی ایس ایم کو چلانے کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ وزارت صنعت پی ایس ایم کو چلانے کے لیے اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، برآمدات بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت ملک میں صنعتوں کی بحالی کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران ملک کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور اس کے حل کے لیے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی بحالی بہترین حل ہے۔
قبل ازیں تسنیم احمد قریشی نے امتیاز صفدر وڑائچ کے ہمراہ پاکستان اسٹیل ملز کراچی کا دورہ کیا اور ملز کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ اجلاس میں سی ای او پاکستان اسٹیل ملز سیف الدین جونیجو، کارپوریٹ سیکریٹری ایم شفیق انجم اور دیگر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملازمین کے 124ارب روپے واجب الادا ہیں۔ قرضوں، واجبات، ڈیپازٹس، اخراجات اور دیگر ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر 30ارب روپے درکار ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز 2003-04 میں 20 فیصدمنافع پر تھی لیکن 2008-09 میں اسے بین الاقوامی کساد بازاری اور دیگر عوامل کی وجہ سے 26ارب روپے کا نقصان ہوا، ضروری بیل آئوٹ پیکیچ نہ ملنے کے بعد ملز 2015 سے بند ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن نے پی ایس ایم کے بعض حصوں کی نجکاری کے لیے منصوبہ بندی کی ہے، چار چینی کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے لیکن مسئلہ بہت زیادہ واجبات کا ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے ریٹائرمنٹ کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 19.6بلین روپے کی منظوری دی ہے۔ ملز میں 49.9 فیصدملازمین کی پہلے ہی چھانٹی کی جا چکی ہے۔











