کوئٹہ۔13اپریل (اے پی پی):بلوچستان پولیس میں خواتین کانسٹیبل پر مشتمل اینٹی رائیٹ ونگ کا قائم کر دیا گیا ہےویمن ونگ میں چالیس تربیت یافتہ خواتین کیڈٹس شامل کی گئی ہیں ویمن اینٹی رائٹ ونگ قائم کرنا جدید دور کے عسکری تقاضوں میں سے ایک ہے ویمن اینٹی رائٹ یونٹ بلوچستان پولیس کا پہلاانقلابی اقدام ہے۔یہ یونٹ اب تک کراچی, لاہور اور پشاور میں بھی قائم نہیں ہوا ہے۔یہ یونٹ ابتدائی طور پر کوئٹہ میں قائم کیا گیا ہے اس کا دائرہ ڈویژن اور پھر ضلع کی سطح پر لیجایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے پولیس لائن ہیڈکوارٹرز میں پہلی خواتین اینٹی رائٹ ونگ کی پاس آئوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ کثر اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ جب آپ کہیں مظاہرے کو منتشر کرنے جاتے ہیں تو یاد رکھیں کہ وہ عام حالات میں قانون کے ماننے والے شہری ہوتے ہیں اس وقت طاقت کے استعمال کے دوران کبھی بھی اپنے غصے کو شامل نہ کریں۔ آئی جی بلوچستان نے اپنے خطاب کے دوران مزید کہا کہ مشتعل مظاہرین کا دوران ہنگامہ اور احتجاج کے وقت غم و غصہ اس وقت کی حکومت یا پولیس محکمہ کے بر خلاف تو ہو سکتا ہے مگر آپ کی ذات کے خلاف قطعاً نہیں اسے ذاتی نہ لینا بلکہ کوشش کرنا کہ امن و امن کے پش نظر خطرے کو ٹالا جا سکے اور عوام کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔آئی جی بلوچستان پولیس عبدالخالق شیخ نے کہا کہ امن کا قیام پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے پولیس کا اصلاحات کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے پولیس اہلکاروں کی فورس کی تعداد دگنی کی گئی ہے ایسا ماحول بنانا چایتے ہیں کہ خواتین مقدس پیشے کا انتخاب فخر سے کریں۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری سلمان چوہدری ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی سی کاشف عالم ، ڈی آئی جی کوئٹہ غلام اظفرمہیسر ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ شہاب عظیم لہڑی ،ڈپٹی کمانڈنٹ بی سی قمر الحسن، اے آئی جی ٹریننگ شیر علی ،ایس ایس پی آپریشن ذوہیب محسن ، ایس پی ہیڈ کوارٹر سمیت دیگر افسرا ن بھی موجود تھے ۔آئی جی پولیس نے کہا کہ خواتین پر مشتمل پہلا دستہ ہولیس فورس کا حصہ بن گیا ہے اے آر یو یونٹ اہم پیش رفت ہے خواتین اہلکار کم وقت میں اعلی معیار کی تربیت مکمل کرنے پر مبارک باد کی مستحق ہیں آج کا دن خواتین پولیس افسران نے پیشہ ورانہ مہارت خدمات کا عزم ہے کیا ہے پولیس لائیز ہیڈکواٹرز کا گراونڈ جہاں شہداءکے جنازے پڑھے گئے اسی جگہ خواتین پولیس نے دہشتگری سے لڑنے کا اظہار کیاہے پولیس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد دگنی کردی ہے پولیس کے تمام شعبوں میں خواتین کو مردوں کے برابر لایا جارہا ہے اینٹی رائٹ فورس شہریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھے مظاہرین کو پرامن طور پر اختتام پزیر کرنا فورس کا فرض ہوتا ہے۔انہوں نے پاس آوٹ ہونے والی خواتین کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ دایوں کے دوران اینٹی راٹس فورس متناسب انتظامات کو یقینی بنائے اور غصے کی بجائے اپنی مہارت کا استعمال کرے اینٹی رائٹ یونٹ سخت عوامی درعمل کو پیشہ وارانہ مہارت سے دیکھے خواتین ہر شبعے میں شمولیت کو یقینی بنائے مرد پولیس اہلکار خواتین کی ضروریات کا خیال رکھیں محکمے میں ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جہاں خواتین پولیس اہلکار اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں اور فخر سے مقدس پیشے کا انتخاب کریں اس موقع پرڈی آئی جی اظفر مہسر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پہلے خواتین اینٹی رائٹ یونٹ کا قیام اہم سنگ میل ہے سیکورٹی مشکلات اور خواتین دھرنے کے پیش نظر تشکیل دیا گیا زیر تربیت خواتین کیلئے الگ رہائش گاہوں اور لباس کا خصوصی خیال رکھا گیاہے اساتذہ کرام نے خواتین اہلکاروں کو کم وقت میں حالات سے نمٹنا سیکھایا۔اس موقع پر کیڈٹس نے عملی مشق کے مظاہرے بھی کئے۔











