ملتان،11 اپریل(اے پی پی ): ویمن یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کے زیرا ہتمام موسمیات کے عالمی دن کے حوالے سے پراجیکٹس کی نمائش کی گئی جس کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعظمیٰ قریشی نے کیا۔ نمائش میں طالبات نے روایتی اور جدید موسمیاتی اور سیسمولوجیکل آلات، ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس اور سولر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آبپاشی کی نمائش کی نمائش کی۔
میزبان ڈاکٹر ملیکہ رانی (چیئرپرسن شعبہ فزکس) نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی سائنس اور آب و ہوا سے متعلق چیلنجوں کو لوگوں اور پالیسی سازوں کے ساتھ مناسب موافقت پذیر اقدامات کے لیے شیئر کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کہنا تھا کہ بنی نوع انسان اور ہر جاندار کی زندگی موسم ، آب و ہوا اور پانی ہی کی مرہون منت ہے لیکن جدید سائینس کی ترقی اور نئی ایجادات کے نتیجے میں زمین کا موسم مسلسل بدل رہا ہے جو ہر جاندار کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکوں کے موسموں میں آنے والی حالیہ تبدیلی کی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فضا میں کیا جانے والا زہریلی گیسوں کا اضافی اخراج ہے جس سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت آہستہ آہستہ اپنے اثرات ظاہر کر رہی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب، چین میں زمین کا کھسکنا، روس میں لگی آگ اور سنٹرل یورپ میں مسلسل بارش جیسے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 1980ءسے اب تک موسمی گرمی میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ لہذا ہم سب کو چاہیئے کہ ہم موسموں کو بچانے کے لئے آگے آئیں اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ انفرادی کوششوں کو اجتماعی شکل میں ڈھال کر جامع منصوبہ بندی کرے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پایا جاسکے، ان پراجیکٹ کی نمائش کا بھی یہی مقصد ہے کہ عوام کو آگاہی مل سکے کہ اپنے موسموں اور ماحول کوکیسے بچانا ہے ۔











