حکومت منشیات کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کر رہی ہے ،وفاقی وزیر انسدادمنشیات شازین بگٹی

46

کراچی۔2مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات نوابزادہ شازین بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت منشیات کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے جامع حکمت عملی وضع کر رہی ہے ، منشیات کی فروخت اور استعمال پر موثر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لئے قانون سازی بھی زیر غور ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بے نظیر شہید اے این ایف ماڈل ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر (ایم اے ٹی آر سی) کراچی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت معاشرے سے منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے،  ملک بھر میں منشیات کی فروخت پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے موثر اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،وفاقی و صوبائی حکومتیں طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔انہوں  نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور دیگر وفاقی اور صوبائی ادارے  منشیات کی لعنت پر قابو پانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی منشیات دنیا بھر میں تیزی سے روایتی منشیات کی جگہ لے رہی ہیں جبکہ منشیات فروش منشیات کی نقل و حمل اور فروخت کے لیے نئے ذرائع اور طریقے استعمال کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت منشیات کے کاروبار کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے ایک نیا نظام وضع کر رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ نیا نظام منشیات کے اسمگلروں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے تمام راستوں کو بند کرنے میں مدد کرے گا۔نشے کے عادی افراد کی بحالی کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے سندھ میں تین ماڈل نشے کی بحالی اور علاج کے مراکز کام کر رہے ہیں جس میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے مراکز شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں مزید بحالی مراکز کے قیام کے لیے حکومت سندھ سے بات چیت جاری ہے اور صوبائی حکومت نے اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بحالی اور علاج کے مراکز ضلعی سطح پر قائم کیے جائیں۔شازین بگٹی نے کہا کہ سندھ کے دیگر شہروں میں مزید بحالی مراکز کے قیام کے ساتھ ساتھ سندھ کی 4 جیلوں میں منشیات کی بحالی کے مراکز کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزارت نارکوٹکس کنٹرول ملک بھر کی تمام 108 جیلوں میں بحالی مراکز قائم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر میں منشیات کے عادی افراد کے مفت علاج کو یقینی بنانے کے لیے بحالی مراکز کے قیام کے لیے دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی شامل کریں گے۔تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے بارے میں ایک سوال پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اس حوالے سے قانون سازی کے فریم ورک پر کام کر رہی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعلیمی اداروں میں منشیات کی  ٹیسٹنگ کرنے کا اختیار دے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رجحان کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔ ملک کے سیاسی منظر نامے کے بارے میں ایک اور سوال پر شازین بگٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے نمائندوں پر مشتمل ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔قبل ازیں وفاقی وزیر نے سیکرٹری وزارت نارکوٹکس کنٹرول حمیرا احمد کے ہمراہ بینظیر شہید اے این ایف ماڈل ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کراچی کے افعال، موجودہ صورتحال اور مستقبل کی کوششوں کے بارے میں بریفنگ لی۔وفاقی وزیر نے سنٹر کے مختلف حصوں کا بھی معائنہ کیا جن میں وارڈز، کمپیوٹر رومز اور زیر علاج مریضوں کے لیے دیگر سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے مریضوں سے بات چیت کی اور ان کے علاج معالجے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بھی دریافت کیا۔