اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غریب محنت کش، کاشتکار، چھوٹے کاروباری افراد اور تنخواہ دار طبقے کیلئے مراعات دی گئی ہیں، یہ بجٹ کسی طور بھی سیٹھ کا بجٹ نہیں، کسانوں کیلئے بیجوں سے لے کر زرعی مشینری تک ٹیکس میں مناسب رعایت اور فی ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کو ترجیح بنایا گیا ہے، دیہی اور شہری علاقوں کیلئے الگ الگ پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور ملینیم ایجوکیشن کے زیر اہتمام پوسٹ بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق غریب اور پسماندہ طبقات کیلئے بجٹ میں خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے فنڈ میں اضافہ کیا گیا ہے جو گزشتہ ڈیڑھ سال میں اضافہ کے بعد 450 ارب روپے کر دیا گیا ہے ، بی آئی ایس پی کے تحت غریب ترین خاندانوں کی کفالت کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کی گاڑی کا پہیہ چلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ اس لئے بھی غریب آدمی کا بجٹ ہے کیونکہ بجٹ میں ان لوگوں کا خیال رکھا گیا ہے جن کے پاس روزگار، تعلیم اور ہنر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ ایک سے 16 تک جن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ان کی شرح 95 فیصد بنتی ہے اور باقی ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنشنرز جو کہ ملازمت کے بعد زندگی کی گزر بسر پنشن پر کرتے ہیں ان کی پنشن میں بھی ساڑھے 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور پہلے ہی پنشنرز کو ٹیکس پر چھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تمام پرائیویٹ سیکٹرز میں کام کرنے والے محنت کش اور غریب طبقات کی کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جس سے انہیں ریلیف ملے گا، صوبوں سے بھی ضمانت لی گئی ہے کہ وہ کم از کم اجرت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں وفاق کے مساوی بڑھائیں گے۔ مصدق ملک نے کہا کہ اس بجٹ میں دیہی اور شہری علاقوں کی الگ الگ حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، دیہی علاقوں میں کاشتکاروں کی سہولت اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے بیج، ادویات، کھادوں اور زرعی مشینری پر ٹیکس کو انتہائی موزوں اور مناسب رکھا گیا ہے تاکہ کاشتکار خوشحال ہو۔











