شعبہ تعلیم سمیت تمام شعبوں میں ریسرچ کا عملی فائدہ ملک اورمعاشرے کو پہنچنا چاہئے، حاجی غلام علی

13

 پشاور، 13جون(اے پی پی): گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ ریسرچ 21ویں صدی کی اہم ضرورت ہے، شعبہ تعلیم سمیت تمام شعبوں میں ایسی ریسرچ کی ضرورت ہے جس کا معاشرے کو عملی فائدہ پہنچے، صوبہ میں ریسرچ کیلئے ادارے تو بہت ہیں لیکن بدقسمتی سے کسی بھی شعبہ میں ایسی معیاری تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے براہ راست ملک سمیت کسی بھی شعبہ سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں ہائیر ایجوکیشن اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ٹریننگ(ھارٹ) میں تربیتی کورس کے شرکاء سے ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات میں نگران صوبائی وزیرمحکمہ اعلٰی تعلیم جسٹس(ر) ارشاد قیصر، اکیڈمی کے ڈائریکٹر تسبیح اللہ و دیگر عہدیداروں سمیت اکیڈمی گریڈ 21 سے گرید 22 میں ترقی کیلئے لازمی تربیتی کورس کرنیوالے مختلف کالجز کے پروفیسرز صاحبان شریک تھے۔

اس موقع پر اکیڈمی کے ڈائریکٹر نے گورنر کو اکیڈمی کے قیام کے اغراض و مقاصد سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اکیڈمی کا قیام ایکٹ کے تحت 2016 میں ہوا جس میں کالجز کے پروفیسرز کو ترقی کیلئے 4 ماہ کا لازمی تربیتی کورس کرایا جاتا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی کو سخت مالی مسائل کا بھی سامنا ہے اور تربیتی کورس کیلئے بھی بجٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے اپنی مدد آپ کے تحت کام چلایا جا رہا ہے جس پر گورنر نے اکیڈمی کو درکار بجٹ کی فراہمی کیلئے محکمہ خزانہ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے ساتھ معاملہ اٹھانے اور اپنی جانب سے مکمل سرپرستی و تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کورس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ اساتذہ، پروفیسرز کا تعلیم یافتہ، مہذب قوم کی تشکیل میں اہم بنیادی کردار ہے کیونکہ آپ وہ افراد ہیں جو اپنا علم وتجربہ اور کردار دوسروں کو منتقل کرتے ہیں، گورنر نے اساتذہ کرام کو تاکید کی کہ وہ طلبہ کی کردار سازی اور دین داری سمیت تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کریں۔

 انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے معاشرے میں عدم برداشت، اقدار و روایات اور شائستگی کا فقدان پروان چڑھتا رہا اور اب یہ تعلیمی ماہرین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی کردار سازی سے معاشرے میں روایات، شائستگی، اقدار کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں اور جدید تعلیم سے نوجوانوں کی راہنمائی کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ادارے تحقیقی شعبہ میں اپنی استعداد میں اضافہ کریں اور ریسرچ کے فروغ اور تحقیق کو بطور چیلنج قبول کریں کیونکہ کسی بھی ہدف کے حصول کیلئے چیلینجز کا سامنا کرنا پرتا ہے۔