فیصل آباد،17جون (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو اس کا تکبر لے ڈوبا، بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اسے چارٹر آف ڈیموکریسی پر سائن کرنے کی پیشکش کی،بلاول زرداری نے کہاکہ عمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر اس نے تکبر کا مظاہرہ کیااور بات بات پر یہی کہتا رہا کہ میں این آر او نہیں دوں گا لیکن اب کہتا ہے کوئی میری بات نہیں سنتالہٰذا ہم کہتے ہیں کہ جب وقت تھا اس وقت تم نے ہماری بات نہیں سنی، ہمارے خلاف انتقامی کارروائیوں کا بازار گرم کئے رکھا، ہمارے خلاف بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات بنائے اور مقدمات بھی ایسے شرمناک جن میں موت کی سزا بھی ہوسکتی تھی۔
وہ ہفتہ کی شام پاکستان یارن مرجنٹس ایسوسی ایشن کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے جس میں پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن گچھا گروپ کے چیئر مین چوہدری جاوید اصغر گچھا، وائس چیئر مین شیخ اویس ناصر،گروپ لیڈر شاہد ذیشان گچھا،دیگر عہدیداران حاجی عبدالجبار،معظم علی شیخ،حاجی محمد بوٹا،شیخ محمد یاسین،ملک محمد منور،شیخ مختار،سابق ایم این اے میاں عبدالمنان،سٹی صدر مسلم لیگ(ن) شیخ اعجاز احمدسابق ایم پی اے،چیئرمین فیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرزملک تحسین جاوید اعوان،نائب صدرفیصل آبادچیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری محمد اسلم بھلی،امین بٹ و دیگرممبران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ2013 سے 2018 تک (ن)لیگ کی حکومت رہی اس دوران20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، دہشتگردی کا سامنا رہامگرمیاں نواز شریف اورشہباز شریف کی قیادت میں مرکزاور پنجاب میں حکومت قائم کی گئی،لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی پر قابو پایا گیا،سی ٹی ڈی نے بڑی محنت سے دہشتگردی پر قابو پایا،پچھلی حکومت نے بھی طعنے دیئے کہ انہوں نے بجلی کے اتنے کارخانے لگادئیے لیکن2014 سے عمرانی فتنے نے نفرت کی سیاست کا آغاز کیااوراداروں کے افسران کے نام لے کر ان کو دھمکیاں دی گئیں،بل نہ دینے کا کہا گیا،یہ سول نافرمانی نہیں تو اور کیاتھا،مخالفین کو گالیاں دینا ان کا وطیرہ رہا،بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدہ سے ہٹایا گیا،لوگوں کو پی ایم ایل این کے ٹکٹس واپس کرنے پر مجبور کیاگیالیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ پی ایم ایل (ن)آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور فتنے کا نام و نشان ختم ہونے جارہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ ہمارے دور میں فیصل آباد سمیت ملک بھر میں بڑے بڑے پراجیکٹ بنے مگر اس نے 4 سال میں کیا کام کیاصرف یہ کہ ہمارے شروع کئے ہوئے پراجیکٹس پر اپنے نام کی تختیاں لگائیں، نوجوانوں کو گمراہ کیا،50 لاکھ گھروں 1 کروڑ نوکریوں کا جھوٹا وعدہ کیامگر کسی پر عمل نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی مہذب ریاست میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ ریاست نے مجھے گرفتار کیا تو یہ ریڈ لائن ہوگی،9 مئی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاستی اداروں کو نشانہ بنایاگیا اور جو کام دشمن ستر سال میں نہ کرسکا وہ اس نے کردکھایا۔رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور کلمے کے نام پر یہ ملک بنا، ہمارے بزرگوں نے اس کے بنانے میں حصہ لیااور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں لیکن اس نے ان پر پانی پھیرنے کی سازش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک فتنہ ہے، سیاست میں بات چیت اور ڈائیلاگ کے بغیرآپ ملک نہیں چلا سکتے، یہ کہتا تھا کہ مخالفین کے ساتھ بات کرنے سے بہتر ہے میں مرجاؤں،اب اللہ کا انتقام دیکھیں یہ جن سے بات کرنا چاہتا ہے وہ اس سے بات نہیں کرتے کیونکہ سب کو چور اور ڈاکو کہنے کے سوا اس کے پاس کوئی بیانیہ نہیں تھا نہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ ہمارے اوپرکرپشن کے جھوٹے مقدمات بنارہے تھے عین اسی وقت اس کی اور پنکی پیرنی کی فرنٹ مین فرح گوگی کے ذریعے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ فوج ملک کا دفاعی ادارہ ہے،ملک میں فوجی حکومت بھی رہی، سیاست دانوں کو ملک بدربھی کیا گیا، ان کو کوڑے بھی لگائے گئے لیکن آج تک کسی نے ملک کی کسی دفاعی تنصیبات پر حملے نہیں کئے،کسی جماعت کا یہ نکتہ نظربھی نہیں رہا کہ مخالفین کے گھروں کو آگ لگادیں۔
رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ خود ان کے گھر کوبھی آگ لگانے کی کوشش کی گئی اور فیصل آباد میں حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کیا گیا،آج تک شہدائے وطن کے مجسموں پر لوگوں نے ڈنڈے نہیں مارے مگر انہوں نے ان کی بے حرمتی سے بھی گریز نہیں کیا،ہمارے بہادر لوگوں کے مجسموں کو توڑا گیا،یہ لوگ ہر روز زمان پارک میں جاتے تھے جہاں ان کو یہی ٹریننگ دی گئی،وزیرآباد پر حملے میں ملوث مذہبی آدمی تھاجس نے اعتراف کیا کہ اس نے فتنے کی حرکات کی وجہ سے ذاتی حیثیت میں یہ کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے بھی اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کوئی جواب نہیں دیاجبکہ ہمیں ڈر تھا کہ اگر یہ فتنہ زور پکڑ لیتا تو ملک کو کسی حادثہ سے دوچار کردیتا،یہ فتنہ منہ سے آگ برساتا تھالہٰذاان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 12،12 دن جیل میں رہنے والے باہر آکر کہتے ہیں کہ اب میں سیاست سے بریک لے رہا ہوں،جو لوگ گورنر رہے وہ چند دن جیل نہیں کاٹ سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو فتنے سے پاک کردیا ہے اور اب دوبارہ الیکشن کے بعد پرسکون طریقے سے عوامی خدمت کا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔
اس موقع پر چیئرمین یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن چوہدری جاوید اصغر نے یارن مارکیٹ اور گھنٹہ گھر کے پارکنگ،سیکورٹی سمیت دیگر درپیش مسائل سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا۔انہوں نے سی ٹی او فیصل آباد مقصود احمد لون کو گھنٹہ گھر اور آٹھوں بازار ں میں ٹریفک مسائل کو جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔
راناثنااللہ نے کہا کہ ہم سب کیلئے باعث اعزاز ہے کہ ہم یہاں اکٹھے ہوئے اور ہمیں ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہی کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بے ہنگم تاروں کو بہت جلد ٹھیک کیا جائے گاجبکہ آپ لوگ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ بھی میٹنگ کرکے ان کو بھی اپنے مسائل سے آگاہ کریں کیونکہ آپ کے مسائل کے حل کیلئے بہت زیادہ فنڈز درکار نہیں ہے لہٰذا ہم مقامی ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مل کر مسائل حل کریں گے۔انہوں نے تاجر برادری کے تمام مسائل کے جلد از جلد حل کی یقین دہانی بھی کروائی۔











