اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کاروباری اداروں کو ڈیوٹی کی مد میں ملنے والےریلیف یا رعایت کو قیمتوں میں کمی کے ذریعے صارفین تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کسٹمز ایکٹ 1969 (پاکستان کسٹمز ٹیرف) کے پہلے شیڈول میں مجوزہ تبدیلیوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ٹیرف کمیشن ، ایف بی آر اور وزارت تجارت کے سینئر حکام نے مجوزہ ترامیم کے حوالہ سے اپنے دلائل اورتوجیہات پیش کیں۔ اجلاس میں مختلف اشیاء اور خام مال پر کسٹم ڈیوٹی میں تبدیلیوں اور تجاویز کا شق وارجائزہ لیاگیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کاروباری اداروں کو ڈیوٹی کی مد میں فراہم کی جانے والی کوئی بھی ریلیف یا رعایت قیمتوں میں کمی کے ذریعے صارفین تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ریگولیٹری ڈیوٹیز کو منافع پہنچانے والے اقدام کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ منصفانہ تجارتی طریقوں کو فروغ دینا اور گھریلو صنعتوں کا تحفظ ہونا چاہئے۔ پیکجڈ جوسز انڈسٹری کے نمائندوں نے کمیٹی سے 10 فیصد ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی درخواست کی اورموقف اختیارکیا کہ حکومت نے گزشتہ سال ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حکومت کو ریونیو کی مدمیں زیادہ فائدہ نہیں ہوا، اس کی وجہ سے فروخت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز کے نمائندوں نے کمیٹی کو پاکستان میں سٹیل کی صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ ان کاکہناتھا کہ مقامی سٹیل کے سکریپ کی سپلائی کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 13 کے تحت سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ سکریپ کی سپلائی پر ودہولڈنگ کی شرح کو انکم ٹیکس کے سیکشن 153 کے تحت 0.25 فیصد تک کم کیا جائے۔ اپٹما کے نمائندوں نے کمیٹی کو پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بجلی اور گیس پر کوئی سبسڈی نہیں دی گئی جس سے انڈسٹری کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ حکومت بجٹ تجاویز میں ترمیم کرے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ضروری ریلیف فراہم کرے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ساتھ 20 ملین انسانی وسائل منسلک ہیں۔ اپٹما کے نمائندوں کا موقف تھا کہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے پنجاب میں ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکے ہیں، اگر سبسڈی فراہم نہیں کی گئی تو مزید یونٹ بند ہو جائیں گے۔ انہوں نے پچھلے سال کے بجٹ کے مطابق بجلی اور گیس پر سبسڈی کو ٹیکسٹائل انڈسٹری تک بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔











