گوجرانوالہ،18 جون(اے پی پی):یونان کشتی حادثہ میں گجرات کے لاپتہ نوجوانوں کی تعداد 50 سے زائد ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔لاپتہ نوجوانوں میں اکثریت 20 سے 32 سال کی عمر کے نوجوان شامل ہیں ۔
کشتی حادثہ میں لاپتہ ہونے والوں میں گجرات کے نواحی علاقہ کنجاہ کے 14،کھاریاں کے 11،رحمانیہ، ککرالی کے 7 اور سرائے عالمگیر کے دیہاتوں کے 10نوجوان شامل ہیں ،جو ایجنٹوں کو 20 سے 25 لاکھ ادائیگی کر کے لیبیا سے یونان کیلئے کشتی پر 9 جون کو سوار ہوئے اور منزل پر پہنچنے کی بجائے سمندر میں ڈوب گئے۔
کشتی پر سوار ہونیوالے نوجوانوں میں گجرات پولیس کے 2 ملازم بھی شامل ہیں ،جن میں علی رضا تاحال لاپتہ ہے جبکہ عثمان نامی ملازم زندہ بچ جانیوالوں میں شامل ہے ،لاپتہ نوجوانوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ چکا ہے ،والدین اپنے پیاروں کی آواز اور ایک جھلک دیکھنے اور انکے زندہ بچ جانے کی خبر سننے کو بیتاب ہیں۔
گجرات کے ان لاپتہ نوجوانوں میں عبداللہ،محدوم ،عبداللہ آفتاب، حامد، اسامہ، داؤد شہزاد،عامر یوسف،حماد صدیق،خرم بٹ، ابوزر پرویز،شمشیر علی،سید عمران اور علی امتیاز علی رضا،رحمان علی،عثمان ظفر،علی سرور،عثمان اختر،عمران حیات،علی حیدر،افضل حیات،منیر اسلام،قاسم طالب،شمریز احمد، آفتاب زاہد،میاں بوٹا،بابر پہلو،میاں عبدالجبار،عبد الغفار،سمیع اللہ،اویس،علی حسن،حمزہ اختر،علی حمزہ،راجہ سلمان،عثمان شبیر ،شبیر احمد،شعیب بیگ،مرزا مبین،جواد اصغر،محمد علی،ذیشان الطاف،تجمل حسین،عدنان عارف،عرفان مہربان شامل ہیں۔











