لاہور،11جولائی (اے پی پی):وزیر اعلی محسن نقوی نے انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے دریائے ستلج کے بیڈ میں موجود آبادیوں کے فوری انخلا ء اور دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کے بہاؤ کو 24 گھنٹے مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہو ا جس میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری آبپاشی نے بتایا کہ بھارت نے ستلج میں بھی 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک پانی چھوڑا ہے اورگنڈا سنگھ والا کے مقام پر 38 ہزار کیوسک پانی گزر نے کا امکان ہے۔
وزیر اعلی محسن نقوی نے ہدایت کی کہ دریا کے بیڈ میں آبادیوں کے ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور ریلیف کیمپس میں ویکسین اور ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے اس ضمن میں لاہور، ساہیوال، ملتان اور بہاولپور کے کمشنرز کو ہدایات جاری کیں اور کہا کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظرضروری حفاظتی انتظامات جلد مکمل کئے جائیں اورمحکمہ آبپاشی، تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ہمہ وقت چوکس رہیں۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے منظور شدہ پلان کے تحت ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے،ایس او پیز کے تحت پیشگی حفاظتی انتظامات اوردیگر ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جائے اورفلڈ ایس او پیز پر عملدرآمد کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
حسن نقوی نے درکار آلات، مشینری او رانسانی وسائل کا پہلے سے انتظام کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ انتظامات میں غفلت ہر گزبرداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کچھی کینال کی تعمیر وبحالی کے لئے وفاقی حکومت سے جلد از جلد اقدامات کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے موسم کے بارے میں مستند معلومات کا حصول یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کو موسم اور دریاؤں میں پانی کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
صوبائی وزراء ایس ایم تنویر، عامر میر، منصور قادر،اظفر علی ناصر، بلال افضل، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، سیکرٹریز آبپاشی، زراعت، تعمیرات و مواصلات، لوکل گورنمنٹ، ہاؤسنگ، صحت، خزانہ، اطلاعات، لائیوسٹاک، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈی جی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ڈی جی ریسکیو1122، ڈی جی پی آر اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔











