پشاور، 17جولائی(اے پی پی): خیبر پختونخوا کینگران وزیر اطلاعات، اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ شعبہ صحافت کا صوبے کی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ صحافت اب کسی بھی ریاست کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔جرنلزم ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، اس کو اچھے طریقے سے سر انجام دینا ہی احسن اقدام ہوگا، جرنلزم کا غیر زمہ دارانہ استعمال معاشرے کے لئے تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے،۔ہم اپنے اساتذہ کی جتنی قدرکریں کم ہے، اساتذہ مہذب معاشرے تشکیل دیتے ہیں اور معاشرے کی دیرپا ترقی میں اساتذہ کا اہم کردار ہے۔ ہمیں صوبہ تباہ شدہ حالت میں ملا، بغیر قرض لئے ہوئے صوبے کے معاملات احسن طریقے سے چلا رہے ہیں۔ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار نگراں وزیر اطلاعات نے پیر کے روز یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ صحافت کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کیا ہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ادریس، چئیرمن شعبہ صحافت ڈاکٹر فیض اللہ جان، اسسٹنٹ پروفیسر جرنلزم بحت زمان، اسسٹنٹ پروفیسر جرنلزم سید عرفان اشرف ودیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نگراں وزیر کو شعبہ صحافت کے مختلف سیکشنز، امور اور کارکردگی پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ موصوف شعبہ صحافت کے طلباء سے ملے اور ڈیجیٹل سٹوڈیو کا بھی دورہ کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوڈ کاسٹ سٹوڈیو میں صحافیوں اورجرنلززم کے طلبہ کو صحافتی، پروفیشنل ویڈیوز بنانے کاپلیٹ فارم فراہم ہوگا۔ افتتاح کے دوران یونیو رسٹی آف پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس، چیئر مین ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر فیض اللہ جان بھی موجود تھے۔ طلباء سے اپنے خطاب میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ یہ میرے لئے خوشی کا دن ہے کہ پشاور یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے طلبہ سے مخاطب ہوں۔ کل کو یہی طلباء ملک کو چلانے کے لئے میدان میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صحافت ایک انتہائی اہم اور پروفیشنل شعبہ ہے۔ اس کے درست سمت میں استعمال سے ترقی یافتہ معاشرے جنم لیتے ہیں اور اس کے غلط استعمال اور اپنی ذات کے لئے استعمال سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔صحافی برادری کی زمہ داری بنتی ہے کہ ہماری معاشرتی اقدار نظر میں رکھ کر ریپورٹنگ کریں۔سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے 9 مئی جیسے واقعات رونما کروائے،۔ پچھلے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران ہماری معاشرتی اقدار کو بھی خراب کردیا گیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پوری ایک نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچادی گئی۔ انہوں نے کہا حیاء، بڑوں کی عزت، احترام اور اساتذہ کی عزت ہماری معاشرتی اقدار ہیں،۔ بدقسمتی سے ہماری لیڈرشپ نے بچوں کی ایک ایسی ذہن سازی کی کہ وہ گمراہ ہو گئے،۔نئی نسل کو درست سمت لیکر جانا معاشرے، والدین، صحافی اور اساتذہ کی مشترکہ زمہ داری ہے،۔ اپنے خطاب میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ پوڈ کاسٹ سٹوڈیو کے افتتاح پر پورے شعبہ صحافت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے شعبہ صحافت کے کلاس روم کی تزئین و مرمت کو فوری طور پر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شعبہ صحافت کا صوبے کی ترقی میں نمایاں کردار ہے۔ نگراں وزیر اطلاعات و اوقاف نے طلباء کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی کیا،اور جرنلزم سٹوڈنٹس فورم کے عہدیداران سے حلف بھی لیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ادریس نے بھی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن پاکستاں میں بہت اہم شعبہ ہے۔ میری طرف سے ڈیپارٹمنٹ کو ہر قسم کا تعاون حاصل ہے۔جب چارج لیا تو یو نیورسٹی میں اساتذہ کی تنخواہیں نہیں تھی میں نے دو دفعہ سرپلس بجٹ پاس کروایا۔وائس چانسلر نے کہا کہ میر ی کوشش ہے یو نیورسٹی کے تما م شعبوں کے مسائل حل ہو۔ چئیر مین جرنلزم ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر فیض اللہ جان نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرنلزم کا ڈیپارٹمنٹ 1978 میں یونیورسٹی میں قائم کیا گیا، یہ خیبر پختونخوا میں سب سے پہلا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے ملک بھر اور بیرون ملک میں پشتو اور اردو کے اچھے صحافی پیدا کیے۔ اب جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں صرف صحافی پیدا نہیں کئے جاتے،بلکہ سٹریٹجک کمیو نیکیشن پر بھی بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔اس موقع پر وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی نے نگراں وزیر اطلاعات اوقاف حج مذہبی و اقلیتی امور بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کو شیلڈ بھی پیش کی۔











