پشاور،17جولائی(اے پی پی): نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران حساس اضلاع اور مقامات کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے اور سنٹرل کنٹرول روم میں تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے اور کنٹرول روم کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے۔
یہ ہدایات وزیراعلی خیبر پختونخوا اعظم خان کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات بارے جائزہ اجلاس کے دوران جاری کی گئیں۔
اجلاس میں محرم الحرام کے لیے سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مرتب کردہ پلان پر وزیراعلی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے پولیس، ایف سی اور پاک فوج کے خصوصی دستے تعینات ہونگے جبکہ جلوسوں اور مجالس کی مؤثر انداز میں مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ میں سنٹرل کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔
وزیرآعلی کو بتایا گیا کہ حساس اضلاع و مقامات کی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جنکے مطابق مجالس اور جلوسوں کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، اسلحہ کی نمائش ، ڈبل سواری، نفرت انگیز وال چاکنگ پر پابندی عائد کردی جائیگی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ منفی پروپیگنڈہ کی روک تھام کے سلسلے میں سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے لیےخصوصی اقدامات اٹھائے جائیں گے جس کیلئے حساس اضلاع میں موبائل سروس کی بندش کا شیڈول متعلقہ حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں جلوسوں کے لیے مقررہ روٹس اور وقت کی سختی سے پابندی کرانے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی علماء کرام اور شہریوں سے بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اپیل بھی کی۔
وزیراعلی نے محرم الحرام کو پر امن طریقے سے گزارنے کے لیے تمام محکمے اور ادارے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنیکی ہدایت کی۔











