کئی برسوں بعد صوبہ پنجاب کو کپاس کی وادی میں تبدیل کردیا گیا ہے؛ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو

10

ملتان،31 جولائی(اے پی پی ):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ کئی برسوں بعد صوبہ پنجاب کو کپاس کی وادی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور محکمہ زراعت پنجاب کے تحت کپاس کی بحالی کا مشن کامیابی سے جاری ہے، کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ یقینی بنانے کیلئے فیلڈ فارمیشنز کو سخت محنت کرنا ہوگی، آئندہ 30 دن کپاس کی بہتر مینجمنٹ کیلئے انتہائی اہم ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں کپاس کی موجودہ صورت حال، فصل پر کیڑوں و بیماریوں کے حملہ کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ٹیکنیکل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے محکمہ زراعت کے فیلڈ عملہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگست کا پورا مہینہ کاٹن ایمرجنسی کے طورپر فرائض انجام دے ۔انہوں نے کہا کہ  صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داریوں پر من و عن عمل کیا جارہا ہے، جن کے ثمرات کپاس کی پیداوار کے ہدف کے حصول کے نتیجے میں حاصل ہوں گے۔ جس طرح صوبہ پنجاب میں گندم کی بمپر فصل کی بدولت ملکی اقتصادی صورت حال کو سہارا ملا اسی طرح کپاس کی فصل کو بھی مشن کے طور پر لینا ہے اور بمپر پیداوار حاصل کرکے ملکی معیشت کا پہیہ چلانا ہے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے مزید کہا کہ موجودہ موسمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے زیادہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کی نگہداشت کے اس اہم مرحلہ پر کسی قسم کی سستی /غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ وقت کپاس کے کھیتوں میں گزاریں اور کاشتکاروں کی رہنمائی کے سلسلہ میں جاری سرگرمیوں اور اپنی کارکردگی میں دوگنا اضافہ کریں۔ مارکیٹوں میں معیاری زرعی زہروں کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے مقامی حالات کے پیش نظر ضلعی و ڈویژنل سطح پر ایڈوائزی تیار کی جارہی ہے۔ فیلڈ فارمیشنز کپاس کی نگہداشت اور مانیٹرنگ اپنی ذاتی فصل کی طرح کریں۔ فیلڈ عملہ پورا ہفتہ کاشتکاروں کے شانہ بشانہ کام کرے۔ کپاس کی آلائشوں سے پاک صاف چنائی بارے بھی تربیت فراہم کی جائے۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے مزید کہا کہ فیلڈ ٹیموں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ آئندہ ضلعی و ڈویژن کی سطح پر دوروں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ اس موقع پرڈائریکٹر جنرلز زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ نے کپاس کی موجودہ صورت حال اورفصل پرکیڑوں وبیماریوں کے حملہ کی شدت اور ان کے تدارک بارے شرکا کو تفصیلاً بریفنگ دی۔

سیکرٹری زراعت پنجاب افتخارعلی سہونے ٹیکنیکل سیشن کے اختتام پر کہا کہ یہ سیشن بہت مفید رہا کیونکہ تمام ماہرین و دیگر سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے بیٹھ کر فصل کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے بارے میں گفتگو کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ جس میں تمام فیلڈ افسران نے اپنے تجربات و مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی بہتر پیداوار اصل مقصد ہے جس کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔

 ٹیکنیکل سیشن میں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل، وائس چانسلر ایم این ایس زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، ایڈیشنل سیکرٹریز ٹاسک فورس شبیر احمد خان و امتیاز احمد وڑائچ، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع پنجاب ڈاکٹر محمد انجم علی، ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ رانا فقیر احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب نوید عصمت کاہلوں، ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ، سید حسن رضا سمیت محکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے ڈویژنل، ڈسٹرکٹ اور تحصیل افسران نے شرکت کی۔