بھکر،05 اگست (اے پی پی ): ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نور محمد اعوان نے کہا ہے کہ 5اگست مقبوضہ کی تاریخ میں کشمیریوں کے استحصال کا ایک سیاہ باب ہے، مقبوضہ کشمیر کی تاریخ بھارتی ناجائز قبضے اور مظلوم کشمیریوں پر جبرواستبداد سے بھری پڑی ہوئی ہے، آج سے چار سال قبل 5اگست 2019 کو بھارت نے ناجائز اور غیر آئینی اقدام کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا جو انکو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور آرٹیکل 35اے کے تحت حاصل تھے۔
ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نور محمد اعوان نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول میں 5 اگست یوم استحصال کے حوالہ سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او محمد نوید نے بھی خصوصی شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غاصب بھارت کے اس اقدام سے نہ صرف کشمیریوں کو انکے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی بدترین کوشش کی گئی بلکہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو بھی پامال کیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ 5اگست 2019 کے یہ اقدامات بھارت کے منہ پر سیاہ دھبہ اور اس کے سیکولر ریاست اور انسانی حقوق کے واویلے پر طمانچہ ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نور محمد اعوان نے کہا کہ بھارت کے اس غاصبانہ تسلط کے خاتمہ کیلئے ہر پاکستانی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
یوم استحصال کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے ڈی پی او محمد نوید نے بھی خطاب کیا اور بھارت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت فی الفور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے اور مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر آفس سے جھنگ موڑ تک ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں سوسائٹی کے سرکردہ افراد سمیت ،سرکاری افسران و اہلکاران ،میڈیا نمائندگان اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے گئے۔
احتجاجی ریلی کے شرکاء نے پاکستان زندہ باد اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ریلی کے اختتام پر کشمیری بھائیوں کی آزادی کیلئے خصوصی طور پر دعا بھی کی گئی۔











