پشاور،18اگست(اے پی پی): پشاور میں سٹریٹ کرائمز، گھروں سے چوریاں کرنے، ڈکیت، سنیچرز،موٹرکار اور موٹرسائیکل چھیننے میں ملوث خطرناک گینگز کے خلاف اہم کارروائیاں کی گئیں ہیں، جس میں شہر میں سرگرم سٹریٹ کرائمز، راہزنی، ڈکیتی، موٹر سائیکل سنیچرز،کار لفٹرز سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث 6 مجرم بے نقاب ہوگئے جبکہ کامیاب کاروائیوں کے دوران خطرناک گینگز کے 16 ملزمان گرفتار کر لئے گئے۔
ایس پی فقیر آباد ڈاکٹر محمد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی کارروائیاں ایس ڈی پی او فقیر آباد سید طلال احمد شاہ ، ایس ڈی پی او گلبہار شکیل خان کی نگرانی میں فقیر آباد ڈویژن کے ایس ایچ او تھانہ فقیر آباد وارث خان ، ایس ایچ او تھانہ گلبہار عمر آفریدی ، ایس ایچ او تھانہ پھندو عاقب خان نے مختلف تھانوں کی حدود میں کی گئیں ہیں۔گرفتار ملزمان میں ہمسایہ ملک افغانستان سمیت پشاور کے مختلف علاقوں کے رہائشی شامل ہیں اور کہا کہ گینگز کے گرفتار ملزمان میں پولیس سے برخاست شدہ 2 سابق پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈکیت گینگز سے تعلق رکھنے والے ملزمان اسلحہ کی نوک پر نقد رقم ،قیمتی موبائل فونز ، قتل ، اقدام قتل ، موٹرکار، موٹرسائیکل اور دیگر قیمتی اشیاء چھین کر فرار ہو جاتے تھے۔ گینگز کے گرفتار ملزمان اسلام آباد پولیس کو راہزنی کے دوران مزاخمت پر قتل کے مقدمہ میں بھی ملوث ہیں،گینگز کے گرفتار ملزمان آئس نشے کی حالت میں وارداتیں کرتے تھے جو پہلے بھی متعدد وارداتوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ گرفتار ملزمان میں مسروقہ موبائل فونز کے آئی ای ایم آئی تبدیل کرنے، مسروقہ موبائل فونز افغانستان سمگل کرنے والے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گینگز کے گرفتار ملزمان میں مسروقہ موٹرسائیکل اور گاڑیوں کے ریسور بھی شامل ہیں جو مسروقہ موٹر سائیکل اور گاڑیاں اونے پونے داموں فروخت کرنے میں بھی ملوث ہیں۔
ایس پی فقیر آباد ڈاکٹر محمد عمر نے کہا کہ گروہوں کے قبضے سے مجموعی طور پر مختلف قیمتی اشیاء فروخت کرنے عوض حاصل کی گئی رقم8 لاکھ 80 ہزار روپے، پرایز بانڈز ، 88 عدد چھینے گئے قیمتی موبائل،25 عدد موٹر سائیکلیں ،6 عدد موٹر کار،لیپ ٹاپ،ایل ای ڈی اور دیگر اشیاء برآمد کر لی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے متعدد جرائم پیشہ اور مشکوک افراد کو شامل تفتیش کرنے سمیت مختلف جگہوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جس کے دوران خطرناک ڈکیت گروہوں کا سراغ لگا کر کامیابیاں حاصل کی گئیں ہیں۔ برآمد شدہ گاڑیوں ، موٹر سائیکل، موبائل فونز کے مالکان کا سراغ لگا کر حوالہ کیا جائے گااور کہا کہ تمام گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران مختلف تھانہ جات کی حدود میں گھروں سے چوریاں ، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر معتدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے دوران تفتیش مزید اہم اور سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جارہی ہے۔











