انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز میں “27 اکتوبر 1947: انسانیت کے لئے ایک سیاہ دن” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

60

اسلام آباد،27اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد نے “27 اکتوبر 1947: انسانیت کے لیے ایک سیاہ دن” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر آئی ایس سی ڈاکٹر خرم عباس نے اس دن کی اہمیت اور کشمیر کاز کو آگے بڑھانے کے لئے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ دیگر شرکاءمیں اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کنفلیکٹ اسٹڈیز، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ڈاکٹر ماریہ سیف الدین آفندی، بین الاقوامی قانون کے ماہر عمران شفیق اور سابق سفیر سید اشتیاق حسین اندرابی کے علاوہ کنوینر آل پارٹیزحریت کانفرنس محمود احمد ساغر، وزارت خارجہ کے ڈی جی جنوبی ایشیا اور سارک الیاس محمود نظامی شامل تھے۔

سابق سیکرٹری خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سہیل محمود نے اپنے خطاب میں تنازعہ جموں و کشمیر کے قانونی، انسانی حقوق اور امن و سلامتی کے پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا جب بھارتی افواج غیر قانونی طور پر نام نہاد ”الحاق“ کی بنیاد پر سری نگر میں اتریں، جو دھوکہ دہی پر مبنی ہے، اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے، بھارت جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

سہیل محمود نے کہا کہ قابض افواج کی جانب سے تشدد، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں، بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر ماریہ سیف الدین آفندی نے کہا کہ مسئلہ کا انسانی حقوق کا پہلو 1947 سے شروع نہیں ہوا بلکہ 1846ءسے جب معاہدہ امرتسر پر دستخط ہوئے تب سے کشمیری جبر کا شکار ہیں، پہلے ڈوگرہ راج کے تحت اور اب بھارت کے غیر قانونی قبضے کے تحت کشمیر کو قابض افواج کے مظالم کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت کا مقصد کشمیر کو ‘ہندوائز’ کرنا ہے۔

عمران شفیق نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور بھارتی فورسز کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے جو کہ استصواب رائے کے لئے فراہم کی گئی ہیں۔ سابق سفیر سید اشتیاق حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت نے تقسیم برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کو زبردستی اور بدنیتی سے فرضی الحاق کی آڑ میں کشمیر پر فوج کشی کی اور اسے اپنے ساتھ شامل کیا۔

 کنوینر آل پارٹیزحریت کانفرنس محمود احمد ساغر نے کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں جموں ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں ڈھائی لاکھ مسلمان شہید کئے گئے۔ وزارت خارجہ کے الیاس محمود نظامی نے تنازعہ کشمیر کے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور امن و سلامتی کے پہلو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی توثیق کرتا ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کے حقوق کی وکالت کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے میں امن سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بھارت پر تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، تمام کالے قوانین کو منسوخ کرنے، بین الاقوامی تنظیموں کو وادی کشمیر تک محفوظ رسائی کی اجازت دینے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے دبائو ڈالنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے اختتامی کلمات میں تنازعہ کے منصفانہ حل تک پاکستان کی کشمیریوں کی ہر ممکن حمایت کا اعادہ کیا۔