ساہیوال،22 اکتوبر( اے پی پی ): کمشنر ساہیوال ڈویژن شعیب اقبال سید نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی میں نجی شعبے کا اہم کردار ہے اور مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ غریب عوام کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لئے آگے آئیں، معیاری ہسپتال قائم کریں، عوام اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لاکر اور صحت بارے بنیادی معلومات سے آگہی کے ذریعے بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جس میں خصوصاً شوگر بھی شامل ہے جس سے دوسرے مہلک امراض جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات ”دی ڈائبٹیک سنٹر“کے زیر اہتمام ساہیوال میں شوگر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لئے جدید ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مڈھالی روڈ پر تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال 200بستروں پر مشتمل ہو گا جس پر لاگت کا کل تخمینہ ڈیڑھ ارب روپے لگایا گیا ہے اور ہسپتال کے لئے 8کنال زمین کا عطیہ پروفیسر جاوید رشید اور ان کی فیملی نے دیا ہے۔ تقریب میں “دی ڈائبٹیک سنٹر” کے چیئرمین ڈاکٹر اسجد حمید، بورڈ ممبر ڈاکٹر طاہر محمد عباسی، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈی نیشن شفیق احمد ڈوگر، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محمد عقیل اشفاق، پروفیسر جاوید رشید، ساہیوال کلب کے سیکرٹری میاں انجم حبیب، میاں صغیر انجم اور معززین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
”دی ڈائبٹیک سنٹر “کے چیئرمین ڈاکٹر اسجد حمید نے بتایا کہ شوگر ایک ایشائی بیماری ہے جس کا تعلق طرز زندگی اور کھانے کی عادات سے ہے۔ پاکستان میں 30 فی صد کے قریب آبادی یا تو شوگر کی مریض ہے یا انہیں شوگر ہو سکتی ہے کیونکہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نہ تو ورزش کرتا ہے اور نہ ہی کھانے میں احتیاط۔ انہوں نے کہا کہ طرز زندگی میں بنیادی تبدیلیاں کرکے شوگر جیسی مہلک بیماری سے بچا جا سکتا ہے جس سے دل، جگر اور دوسری بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
“دی ڈائیٹیک سنٹر”کے بورڈ ممبر طاہر عباسی نے بتایا کہ2012سے اسلام آباد میں قائم سنٹر شوگر اور اس سے ہونے والی پیچیدگیوں میں مبتلا سینکڑوں مریضوں کو جدید علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہا ہے جس کے تمام اخراجات مخیر حضرات کے تعاون سے پورے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاہور اور ساہیوال میں 2 مزید سنٹرز کے قیام سے ان علاقوں کے مریضوں کی طبی ضروریات بھی پوری کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
تقریب کے اختتام پر کمشنر شعیب اقبال سید نے 4 منزلہ سنٹر کے تعمیراتی کا م کا افتتاح کیا۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر جاوید رشید نے تمام شرکاءکا شکریہ بھی ادا کیا۔











