جیکب آباد،26 اکتوبر( اے پی پی ): سندھ کا تاریخی ضلع جیکب آباد، برطانوی تسلط سے قبل خان آف قلات کی حکومت میں شامل تھا اور انہی کی مناسبت سے یہ خان گڑھ کہلاتا تھا۔ سندھ پر برطانوی تسلط قائم ہونے کے بعد 1847ءمیں بریگیڈیئر جنرل جان جیکب کو پولیٹیکل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے تقرر کرکے خان گڑھ بھیجا گیا جو یہاں پہنچ کرمقامی آبادی میں گھل مل گئے اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے کاموں کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا،ان کے تخلیق کردہ اس شہر کے عجوبے بہت مشہور ہیں جن میں “کبوتر خانہ” جوڈیڑھ صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجودآج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
جنرل جان جیکب نے یہ کبوتر خانہ 1850ء میں اپنے گھر کے احاطے میں بنایا تھا، یہ اینٹوں کی دس فٹ لمبی، دس فٹ چوڑی اور ساٹھ فٹ اونچی عمارت ہے، اس میں کبوتروں کے چھوٹے چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے ہیں، اینٹوں کو کبوتروں کی گرمی سے بچانے کے لیے عمارت پر مٹی کا لیپ کیا گیا ، یہ لیپ جان جیکب نے شروع کرایا تھا اور یہاں آج تک ہوتا آرہا ہے،یہ کبوتر اس زمانے میں سرکاری نامہ بری کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
جنرل جیکب ان کے پاﺅں کے ساتھ رقعہ باندھ کر اڑا دیتا تھا اور یہ جیکب آبادسے پیغا م لے جاکر سکھر میں ایک مخصوص مقام پر پہنچا دیتے تھے اور وہاں سے جواب لے کر واپس بھی آتے تھے۔
جان جیکب کا بنایا ہوا یہ کبوتر خانہ آج بھی ان کی سابقہ رہائش گاہ اور موجود ڈپٹی کمشنر ہاوس میں موجود ہے، جہاں کبوتروں کے تقریباً 320 کابک بنے ہوئے ہیں، جن میں 300 سے زائد کبوتر مخصوص ”غٹرغوں“ کی آوازیں نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔
جنرل جان جیکب نے1850ءمیں پیغامات کی ترسیل کے لئے جب یہ کبوترخانہ قائم کیا تھا تو یہاں دن بھر کبوتروں کی آواز یں گونجا کرتی تھیں، ان کی دیکھ بھال، خوراک اور صفائی ستھرائی کے لیے عملہ تعینات تھا، انتظامیہ دن رات ان کبوتروں کے نخرے اٹھاتے نہیں تھکتی تھی لیکن جب ڈاک کا نظام رائج ہوا اور خطوط لے جانے کے لیے ڈاک کے تھیلوں کا استعمال شروع ہوا تو کبوتروں کی افادیت بھی ختم ہوگئی تاہم مذکورہ کبوتر گھر خانہ آج بھی تاریخی ورثے کے طور پرجیکب آباد میں موجود ہے۔
یہاں سیر کے لیے آنے والے لوگ جان جیکب کے بنائے ہوئے اس کبوتر گھر کو دیکھنے کے لیے ضرورجاتے ہیں، پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر میں اس طرح کا کوئی دوسرا کبوتر خانہ موجود نہیں ہے، بتایا جاتا ہے کہ جیکب آباد کے ایک تاجر کبوتروں کو روزانہ دس کلو دانا ڈالتے ہیں۔











