صنعتکاروں کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے ،پنجاب میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہو ئی ، محسن نقوی،گوہر اعجاز

24

 

لاہور،7اکتوبر  (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر صنعت و پیداوار گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ صنعتکاروں کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے ،پنجاب میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہو ئی ،آپٹما کپاس پر تحقیق کیلئے فنڈز دینے کو تیار ہے، کپاس کی فصل کو کیڑوں کے حملوں سے بچانے کیلئے پاک فوج نے اہم کر دار ادا کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں آپٹما میں نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔گوہر اعجاز نے کہا کہ آج آپٹما میں 11سال کے بعد پنجاب میں ورلڈ کاٹن ڈے منایا جا رہا ہے ،11سال پہلے جب کپاس کا عالمی دن پنجاب میں منایا گیا تھا تو اس وقت صوبہ کی کراپ80لاکھ بیل ہوئی تھی جو کم ہو کر 33لاکھ بیل پر آ گئی تھی، آج ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے کپاس کی پیداوار کو دن رات محنت کر کے80 لاکھ بیل تک پہنچا دیا۔انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعلی پنجاب نے کپاس کی بہتر پیداوار کیلئے اہم کردار ادا کیا ، پنجاب حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران کپاس کی کاشت کا رقبہ بڑھایا۔

نگران وفاقی وزیر صنعت و پیداوار گوہر اعجاز نے کہا کہ نگران سیٹ اپ میں آنے کے بعد ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب جو سالانہ کپاس کی ایک کروڑگانٹھ دیتا تھا جو کم ہو کر33لاکھ بیل رہ گئی تھی ہم دوبارہ کپاس کی پیداوار کو اپنے اصل اہداف پر لے کر جائیں جس پر وزیر اعلی پنجاب نے محنت کر کے پیداوار 33لاکھ سے بڑھا کر 80لاکھ بیل پر لے کر آ گئے ہیں،ہمیں فخر ہے کہ ہم ای مرتبہ پھر کپاس کی پیداوارمیں دنیا کے پانچ بڑے ممالک کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کے تمام جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا،ہم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے عالمی اداروں سے اشتراک کیلئے کوشاں ہیں،آپٹما کپاس  پر تحقیق کیلئے فنڈز دینے کو تیار ہے ،وفاقی حکومت پنجاب کو کپاس کی ریسرچ اور پیداوار کو بڑھانے کیلئے ایک بلین کی رقم دے گی جس سے کپاس کی پیداوار بڑھانے اور تحقیق کے حوالے سے موثر اقدامات کئے جا سکیں گے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہاکہ کاٹن کی پیداوار کو 3 بلین ڈالر تک لانے میں میرا اکیلے کا کردار نہیں بلکہ اس میں محکمہ زراعت کی پوری ٹیم سمیت دیگر سٹیک ہولڈر نے کاٹن کی پیداورار کو بڑھانے کیلئے دن رات کام کیا ہے، محکمہ لمز نے سٹیلائٹ کے ذریعے کاٹن کی بیماریوں کی بروقت آگاہی فراہم کی جس سے آج ہم کاٹن کی پیداوار کو بڑھانے کے قابل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کپاس کی فصل کو کیڑوں کے حملوں سے بچانے کیلئے پاک فوج نے اہم کر دار ادا کیا، پاک آرمی نے بروقت سپرے کر کے جنگی بنیادوں پر کاٹن کی فصل کو بہت بڑے نقصان سے بچایا، حالیہ سیلاب کی وجہ سے بھی کپاس کی فصل کا لاکھوں ایکٹر رقبہ متاثر ہوا، اگر ہم کسی بھی شعبہ میں ٹیم ورک کے طور پر کام کریں تو دنیا میں کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔

محسن نقوی نے کہاکہ پچھلے سال چاول کی فصل ایک بلین ڈالر کی برآمد کی گئی اور اس سال 2بلین ڈالر تک برآمد کیا جائے گا،اسی طرح گندم کی فصل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جا رہے ہیں ،پاکستان میں فصلوں کی پیداوار کی بڑھوتری کے لیے معیاری بیج کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے،اگر بیج معیاری ہو تو پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے،ہمیں بیج کی ریسرچ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے،بیج رجسٹرڈ کروانے کے لیے کمپنیوں کو پہلے وفاق اور پھر پنجاب سے رجسٹریشن کے لیے کئی کئی سال لگ جاتے تھے ،پہلے وفاق اور پھر پنجاب سے کم ازکم 2 سال کا عرصہ درکار ہوتا تھا ، ہم نے پنجاب سے رجسٹرڈ کروانے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے ،اب صرف وفاق سے بیج کی رجسٹریشن لازمی ہو گی ،پنجاب سے لازمی نہیں ہو گی ‘اس سے معیاری بیج کی فراہمی یقینی ہو جائیگی۔

وزیر اعلی پنجاب نے کہاکہ اگرہم کسان کو معیاری بیج ،فرٹیلائز ر اور مناسب رہنمائی فراہم کریں تو ہم اپنی پیداوار سے 6 بلین ڈالر تک کے ہدف کو حاصل کر سکتے ہیں، کھانے کے تیل اور گندم کی پیداوار کے اضافے کے لیے پنجاب حکومت دن رات کوشاں ہے اور ان کی پیداوار کے اضافے کے لیے ٹارگٹ مختص کئے گئے ہیں،اس سلسلے میں کمشنرز نے ڈی جی خان ،ملتان میں دن رات کام کیا ہے،ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کی بہتری کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ،پنجاب میں دو ادارے زراعت کے حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں ایک ایگری کلچر یونیورسٹی اور دوسرا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہے ،ریسرچ کی استعداد کو بڑھانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ان ریسرچ کے اداروں کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے بہتری کی طرف لے کر جائیں گے۔

محسن نقوی نے کہاکہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ میں وسائل کی فراہمی کے لیے محکمہ خزانہ کام کر رہا ہے ،جلد ان کو تمام وسائل فراہم کر دیئے جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی پنجاب نے کہاکہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر صوبے میں زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کی روک تھام کے بعد چینی کی قیمت میں واضح کمی ہوئی ہے ،جلد مہنگائی میں بھی کمی واقع ہو گی۔