ملتان،07اکتوبر(اے پی پی ): ڈائریکٹر ریسرچ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر تصور حسین ملک نے کہا ہے کہ کپا س کی بحالی وترقی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ریسرچرز کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا ہوں گی تب کہیں جا کر خوشحال کسان اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
یہ بات ڈائریکٹر ریسرچ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر تصور حسین ملک نے آج سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقد ہونے والے عالمی یوم کپاس پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کپاس کی پیداواری لاگت کم کرنے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں اور کسانوں کی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے اور ا س کے لئے ہم سیڈ سیکٹر میں مزید بہتری لائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپا س کی تحقیق وترقی کے لئے ریسرچ اداروں میں فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
کپاس کے عالمی یوم پر ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ،ملتان ڈاکٹر محمد نوید افضل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کپا س کی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ بہت ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپاس ہماری معیشت کی شہ رگ ہے اور ہم جنیاتی سیڈ ٹیکنالوجی کی طرف کام کرنے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر نوید افضل کا کہنا تھا کہ ہمیں اچھی پیداوار کے لئے جدید طریقہ کاشت کی بہت ضرورت ہے جس سے نہ صرف کپاس کے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کے لئے حکومت ریسرچ اداروں کی مالی مشکلات دور کرے تاکہ ہمارے زرعی سائنسدان کپاس کے کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے مزین موسمیاتی تبدیلیوں اور کپاس کے کیڑے مکوڑوں کے خلاف بہترین اقسام مہیا کر سکیں۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن کے کاٹن ایڈوائزرڈاکٹر جاوید حسن کا کہناتھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کپاس کی پیداوار میں بڑھوتری کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرزکو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی،معیاری بیج اورموسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہونے کے لئے جدید ریسرچ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایپٹماریسرچ اداروں کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔
عالمی یوم کپاس کے شرکاء سے ایمری ملتان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل شہزاد احمد نے زراعت میں میکانائزڈ فارمنگ کی ضرورت واہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور شرکاء کو بتایا کہ جدید دنیا زراعت میں کہاں کھڑی ہے اور ہم کس سطح پر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں روائتی طریقہ کاشت چھوڑ کر جدید کاشت کاری کے اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔
ایلیویٹ گلوبل کے کنٹری مینجر محمد عبد اللہ نے حاضرین کو ٹریس ایبی لیٹی کی ضرورت واہمیت بارے تفصیل سے بتایا۔گگومنڈی سے تشریف لائے ترقی پسندکاشتکار احمد نواز کا کہنا تھا کہ کپاس کی اچھی پیداوار کے لئے اچھی مینجمنٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ کپاس کے ریسرچ کے اداروں کے منجمد فنڈز بحال کرے مالی مشکلات میں گھرے ریسرچ کے اداروں کے فنڈز بحال کئے جائیں اور تحقیق پر پیسہ خرچ کیا جائے تا کہ ریسرچ کے ادارے کپاس کی جدید ٹیکنالوجی سے مزین کپاس کے اعلی اور معیاری بیج کاشتکاروں کو فراہم کریں اور کپاس کی فصل منافع بخش ہو سکے۔
عالمی یوم کپاس کی تقریب کے شرکاء سے ادارہ ہذا کے سینئر زرعی سائنس دانوں ڈاکٹر فیاض احمد، ڈاکٹر محمد ادریس خان، ڈاکٹر رابعہ سعید نے بھی کپا س کی پیداواری ٹیکنالوجی بارے تفصیل سے روشنی ڈالی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔سی سی آر آئی میں منعقدہ عالم یوم کپاس کے موقع پر کپاس کے کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں فور برادرز کے کاٹن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر چوہدری محمد حنیف، آئی سی آئی سے عبد الرزاق سومرو، آربٹ سیڈ سے حافظ محمد زبیر اورخالد محمود نے خصوصی شرکت کی۔ صبح کے وقت کاٹن واک کا اہتمام بھی کیا گیا اس کے علاوہ ادارہ ہذا کی جانب سے اسٹال بھی لگایا گیا۔











